بیرون ملک بھائیوں نے پاکستان میں مقیم ایک بھائی کو گھریلو اخراجات کی مد میں وقتا ً فوقتاً پیسے بھیجے،ایک بھائی نے 15 سال میں آٹھ لاکھ دراہم بھیجے، اور دوسرے نے 7 لاکھ کے قریب اور پاکستان میں موجود بھائی نے اس سے کاروبار کیا اور ایک مکان خریدا جس کی مالیت ستر لاکھ ہے اور دکان کپڑے کی ہے جس کی مالیت تیس لاکھ ہے اب پاکستانی بھائی نے بھیجے ہوئے پیسوں کا ہمیشہ نقصان کیااور اپنے دوستوں کو قرض وغیرہ دیا اور اب دوست قرض بھی ادا نہیں کر رہے ، اب جب تینوں بھائیوں نے علیحدہ ہوناہے تو بھائی کا کہنا ہے کہ مجھے برابر کا تیسرا حصہ دیا جائے ۔حالانکہ اس نے نقصان بھی کیا سب کا۔ اور آٹھ لاکھ درہم والے کا سب سے زیادہ نقصان ہواوہ بیمار بھی ہے اب شرعی طور پرنقصان کا کون ذمہ دار ہے اور کیا تیسرا بھائی جائیداد میں ہے تیسرے حصے کا حق دار ہے کہ نہیں ؟
سوال میں اس بات کی تصریح نہیں ہے کہ بھائیوں کی طرف سے فراہم کردہ رقم کس مقصد کےلیے دی گئی ۔ بظاہر یہی معلوم ہوتاہے کہ وہ مشترکہ اخراجات وضروریات کےلیے دی گئی ہے ۔ اگر واقعۃً ایسا ہی ہے تو ایسی صورت میں یہ جائیداد بھائیوں کے درمیان مشترک ہوگی اور اس میں تینوں بھائی برابر کے حصہ دار ہوں گے ۔ اور اگر بھائیوں کی طرف سے تصریح کی گئی تھی کہ ہماری طرف سے بھیجے ہوئے پیسوں سےہمارے لیے جائیدادیں وغیرہ خرید لو ، تو اس صورت میں پاکستان میں موجود بھائی وکیل شمار ہوگا اور خریدی ہوئی جائیداد کے وہی بھائی مالک ہوں گے جنہوں نے رقم بھیجی تھی ۔
رد المحتار على الدر المختار (4/ 325)سعید
مطلب: اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية [تنبيه] يؤخذ من هذا ما أفتى به في الخيرية في زوج امرأة وابنها اجتمعا في دار واحدة وأخذ كل منهما يكتسب على حدة ويجمعان كسبهما ولا يعلم التفاوت ولا التساوي ولا التمييز. فأجاب بأنه بينهما سوية، وكذا لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية، ولو اختلفوا في العمل والرأي
فتاویٰ قاسمیہ : 2/ 46 ، دارالاشاعت کراچی ، فتاویٰ عثمانی ، 7/ 42 ، العصرا کیڈمی پشاور ، احسن الفتاویٰ ، 6/ 393، اشاعت اسلام ، انڈیا۔