سلام مسنون کے بعد عرض ہے کہ ایک عورت کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ یہ عورت اپنی بالغ بیٹی کو کہتی ہے کہ اپنے حصے کی زمین اپنے بھائیوں کے نام کر دو تاکہ تمہارے بھائی تیرے ساتھ اچھے رہیں اور اچھا سلوک کریں۔ یہ بیٹی زمین اپنے بھائیوں کے نام کروا دیتی ہے۔ پھر کئی سال گزرنے کے بعد بڑے بھائی نے اس بہن کو اس کا حصہ دے دیا جبکہ چھوٹے بھائی نے نہیں دیا ۔ اب یہ بہن بھائی سے حصہ لے سکتی ہے یا نہیں۔ اور اگر بھائی حصہ نہ دے تو کیا عدالتی کاروائی کرنا درست ہےیا نہیں؟
سوال ميں ذكر كرده تفصيل سے یہ بات ظاہرہورہی ہے كہ بہن نے اپنے حصہ وراثت سے بهائيوں كے حق ميں بغير كسی عوض كے دستبرداری كی ہے ،اگر واقعتاً ايسا ہی ہے تو اس صورت ميں شرعی حكم یہ ہے كہ یہ دستبرداری درست نہیں ہوئی،بہن كا حق زمين ميں موجودہےبهائی كو چاہیے كہ وه بہن كا حق اس كو ادا كردے البتہ اس دست برداری كے بعد اب بہن عدالت ميں بھائی كے خلا ف دعوی نہيں كر سكتی اس ليے كہ دعویٰ سے دست برداری درست ہو جاتی ہے۔
الفتاوى الهندية (4/ 417)بيروت
ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب۔
رد المحتار (5/ 633) ايچ۔ايم۔سعيد
وحاصله: أن الإبراء المتعلق بالأعيان إما أن يكون عن دعواها وهو صحيح بلا خلاف مطلقا۔
الأشباه والنظائر لابن نجيم (3/53)زکریا
لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك۔