بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بڑے بھائیوں کا والد کی جائیداد پر قبضہ کرنا اور چھوٹے بھائی کو محروم کرنا

سوال

میں مسمی واحد خان بن حکم خان ؒ آپ حضرات سےایک مسئلہ کےمتعلق رہنمائی طلب کرتاہوں کہ میرےوالدحکم خان مرحوم کواس دنیا سےرخصت ہوئےچارسال کاعرصہ ہواہے۔ ہم تین بھائی ، ایک بہن اورمرحوم کی بیوہ اپنےوالدمرحوم کےورثاء ہیں، لیکن والد مرحوم کی منقولہ وغیرمنقولہ جائیداد میرے بڑے بھائیوں کےپاس تھی، میرےبھائیوں نےنہ تومیری شادی کی اورنہ ہی مجھےوالدمرحوم کی میراث میں سےکچھ حصہ دیاہے۔
نمبر ۱۔اب پوچھنایہ ہے کہ کیامیرےوالدمرحوم کی میراث میں میرا حصہ بنتاہےیانہیں، اگرحصہ ہےتوکتناحصہ ہے؟
نمبر۲۔اورکیامیرےبھائی تمام میراث کوقبضہ کرنےکی وجہ سےگناہ گارنہیں ہوں گے؟

جواب

جوشخص کسی کاحق ناجائزطریقےسےدباتاہے توقرآن وسنت میں اس کےلئےسخت وعیدیں آئیں ہیں ۔ چناچہ ایک حدیث میں آتاہےکہ :” جس شخص نےکسی کی ایک بالشت برابرزمین ظلماً قبضہ کی تواس کوسات زمینوں کاطوق پہنایاجائےگا”۔(بخاری)
اسی طرح ایک اورروایت میں آتاہےکہ:”جس نےکسی وارث کی میراث کوہڑپ کرلیاتوقیامت کےدن اللہ تعالی اس کی جنت والی میراث کوختم کردیں گے”۔(مشکاۃ)
اگرسوال کی تحریردرست ہےتوآپ کےبھائیوں کاآپ کومیراث میں سےحصہ نہ دینا سخت گناہ ہے۔ لہذاآپ کےبھائیوں کو چاہئےکہ تجہیز وتکفین کےاخراجات، واجب الاداء قرضوں اورجائزوصیت کوپوراکرنے کےبعدجوکچھ بچاہے، اس کوآٹھ(8) حصوں میں تقسیم کرے،ایک حصہ میت کی بیوہ کا، ایک حصہ  آپ کی بہن کااوردو،دو حصےہربھائی کودیدے۔

 تقسیمِ میراث کانقشہ درج ذیل ہے

                     مسئلہ 8

بیٹی بیٹے ۳ بیوہ
عصبہ عصبہ ثمن
7 ۱
بیٹی کو ایک حصہ بیٹے کو دوحصے

                                                                                  فی بھائی دو حصے اوربیٹی کوایک حصہ

قال الله تعالى
{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ} [النساء: 29]
صحيح البخاري (1/ 332)باب إثم من ظلم شيئا من الأرض
 «من ظلم قيد شبر من الأرض طوقه من سبع أرضين»
مشكاة المصابيح :كتاب الفرائض،  باب الوصايا،  الفصل الثالث
عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس