بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بچے کے حصول کے لیے نکاح کرنا ، اس کے بعد طلاق دینے کا ارادہ رکھنا

سوال

اگر کوئی شخص کہے کہ میں صرف بچے کے لیے کسی عورت سے شادی کروں گا اور اس کے بعد اسے طلاق دے دوں گا۔ کیا اس کی اجازت ہے؟
دوسری بات اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا فیصلہ کیا ہو لیکن وہ اپنی بیوی کے پاس جماع کے لیے جائے اور کہے کہ میں اس کے بعد اسے طلاق دوں گا۔ کیا اس کی اجازت ہے؟

جواب

نمبر۱۔طلاق اگرچہ مباحات میں سے ہے لیکن اس حق کو صرف اس وقت استعمال کرنا چاہیے جب آپس میں نباہ بےحد مشکل ہوجائے ،خواہ مخواہ طلاق کے ارادے کرنا یا دھمکی دینا یا مخصوص مقاصد کے حصول کے بعد طلاق دینے کا فیصلہ کرنا شرعی لحاظ سے انتہائی قبیح عمل ہے۔لہٰذا صورت مسئولہ میں نکاح کرتےہوئےیہ سوچناکہ بچہ کےحصول کےبعدطلاق دےدوں گابہت نامناسب عمل ہےبلکہ مستقل نباہ کی نیت سےشادی کرنی چاہیے۔
نمبر۲۔ جب تک عورت کےساتھ نکاحِ صحیح کاتعلق موجودہوتب تک ہمبستری کرنے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ کسی معقول وجہ کی بنیادپرطلاق دینےکاارادہ ہو۔تاہم حتی الامکان نباہ کی کوشش کرنی چاہیے۔
التفسير المظهري (2 ق 2/ 50)
وَعاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ بالانصاف فى الفعل وأداء الحقوق والإحسان فى القول۔۔۔۔ولا تفارقوهن ولا تضاروهن فَعَسى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئاً وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ فى ذلك الشيء خَيْراً كَثِيراً۔
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (20/ 226)
والطلاق أبغض المباحات وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن من أبغض الحلال إلى الله الطلاق، وقال: تزوجوا ولا تطلقوا فإن الطلاق يهتز منه العرش، وقال: لا تطلقوا النساء إلا من ريبة فإن الله لا يحب الذواقين ولا يحب الذواقات۔۔
الفتاوى الهندية (1/ 348)
(وأما وصفه) فهو أنه محظور نظرا إلى الأصل ومباح نظرا إلى الحاجة كذا في الكافي۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس