والدین کے ذمے لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کرتے ہوئے ان کو نیکی کا حکم دیں اور برے کاموں سے روکنے کی تلقین کرتے رہیں البتہ اگر روکنے کے باوجود اولاد گناہوں کا ارتکاب کرے تو ان کے گناہوں کی وجہ سے والدین پر کوئی وبال نہیں ہوگا ۔لیکن اگر والدین اولاد کی کسی گناہ میں معاونت کریں یا اولاد کے گناہ میں مبتلا ہونے کا سبب بنیں یا بچوں کی اچھی تربیت نہ کریں انکی طرف توجہ نہ دیں تو اس کوتاہی کی وجہ سے والدین جواب دہ ہونگے۔
قال اللہ تعالی
{ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيْكُمْ نَارًا} [التحريم: 6]
التفسير المظهري (7/177)رشیدیۃ
يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ بأداء الواجبات وترك المعاصي وَأَهْلِيكُمْ بالتعليم والتأديب والأمر بالمعروف والنهى عن المنكر۔
عمدۃ القاری(20/236)رشیدیۃ
قَوْله: {وأهليكم نَارا} (التَّحْرِيم: 6) يَعْنِي: مُرُوهُمْ بِالْخَيرِ وانهوهم عَن الشَّرّ وعلموهم وأدبوهم، وَقيل: وأهليكم بِأَن تأخذوهم بِمَا تأخذون بِهِ أَنفسكُم تقوهم بذلك {نَارا وقودها النَّاس وَالْحِجَارَة} (التَّحْرِيم: 6) .۔۔۔۔۔ عنْ عبدِ الله قَالَ: قَالَ النبيُّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: كُلُّكُمْ رَاعٍ وكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ، فالإمامُ راعٍ وهْوَ مَسْؤُولٌ، والرَّجُلُ راعٍ علَى أهْلِهِ وهْوَ مَسْؤُولٌ۔۔۔۔۔۔مطابقته للتَّرْجَمَة فِي قَوْله: (وَالرجل رَاع على أَهله) لِأَن أهل الرجل من جملَة رَعيته، وَقَالَ زيد بن أسلم: لما نزلت هَذِه الْآيَة قَالُوا: يَا رَسُول الله {هَذَا وقينا أَنْفُسنَا، فَكيف بأهلينا؟ قَالَ: تأمرونهم بِطَاعَة الله تَعَالَى وتنهونهم عَن معاصي الله۔
مشکوۃ المصابیح(2/271)اسلامی کتب خانہ
عن أبي سعيد، وابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه، فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما، فإنما إثمه على أبيه “۔