بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بلا اجازت کسی کی دعوت میں شریک ہونا

سوال

ایک مسئلہ کا جواب مطلوب ہے کہ چند دن قبل ہماری مسجد میں “حج کےبعد زندگی کیسے گزاریں “کے عنوان سے ایک پروگرام کا انعقاد کی گیا جس میں حجاج کرام اور دیگر مہمانوں کو مدعو کیا گیا اور اس میں ضیافت کا انتظام مدرسے کی طرف سے نہیں تھا پروگرام کے اختتام پر حجاج کرام اور مہمانوں کے لیے ماکولات ومشروبات کا اتنظام بھی تھا۔ اس دسترخوان پر طلبہ نے بھی میزبان کی اجازت کے بغیر شرکت کی اور اس ضیافت سے بلا اجازت کھایا پیا ۔ اس عمل کے بارے میں شرعاً کیا حکم ہے؟ یہ ذکر کرنا بھی مناسب معلوم ہوتاہے کہ میزبانوں نے طلباء کے اس عمل پر ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا ۔ جواب مرحمت فرماکر ممنون فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ بلا اجازت کسی کی دعوت میں شریک ہونا غیر اخلاقی عمل ہے اور انسانی غیرت وحمیت کے سخت خلاف ہے حدیث ِ مبارکہ میں ایسے شخص کےلیے آتاہے بغیر دعوت کے کھانے میں شریک ہونے والا چور بن کر داخل ہوا اور لوٹ مار کر کے نکلا ۔
لہٰذا ایسا شخص جس کو صراحتاً یا دلالۃً اجازت نہ ہو اس کےلیے بلا اجازت کھانا جائز نہیں ۔البتہ اگر مہمان کے ساتھ کوئی غیر مدعو شخص آ جائے تو مہمان کو چاہیے کہ میزبان سے اجازت لےکر اسے دعوت میں شامل کرلےاور اگر میزبان پر بار نہ ہو تو گھر آنے والے شخص کو اجازت دینا بہتر ہے۔
صورت مسئولہ میں جن طلبہ کرام نے اس ضیافت میں بلا اجازت شرکت کی وہ اس پر توبہ استغفار کریں اور آئندہ ایسا عمل نہ کرنے کا تہیہ کریں ۔البتہ چونکہ طلبہ پر دعوت کا خصوصی ہونا پوری طرح واضح نہیں تھا اس لیےمیزبان کو چاہیے کہ اب جبکہ طلبہ دعوت کھاچکے ہیں تو وہ اپنی رضا مندی کا اظہار کرلے۔
: صحيح البخاري (3/ 58) دار طوق النجاة
عن أبي مسعود قال: جاء رجل من الأنصار، يكنى أبا شعيب، فقال لغلام له قصاب: اجعل لي طعاما يكفي خمسة، فإني أريد أن أدعو النبي صلى الله عليه وسلم خامس خمسة، فإني قد عرفت في وجهه الجوع، فدعاهم، فجاء معهم رجل، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «إن هذا قد تبعنا، فإن شئت أن تأذن له [ص:59]، فأذن له وإن شئت أن يرجع رجع». فقال: لا، بل قد أذنت له۔
سنن أبي داود (3/ 341)  المكتبة العصرية، صيدا – بيروت
عن نافع، قال: قال عبد الله بن عمر: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من دعي فلم يجب فقد عصى الله ورسوله، ومن دخل على غير دعوة دخل سارقا وخرج مغيرا»۔
مشكاة المصابيح (5/ 1974) دار الفكر، بيروت – لبنان
عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه – رضي الله عنه – قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم – ” «ألا لا تظلموا، ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في ” شعب الإيمان “۔
شرح النووي على مسلم (13/ 208)
 أما الحديث الأول ففيه أن المدعو إذا تبعه رجل بغير استدعاء ينبغى له أن لايأذن له وينهاه وإذا بلغ باب دار صاحب الطعام أعلمه به ليأذن له أو يمنعه وأن صاحب الطعام يستحب له أن يأذن له إن لم يترتب على حضوره مفسدة بأن يؤذي الحاضرين أو يشيع عنهم ما يكرهونه۔
تکمۃ فتح الملہم (4/ 20 ) دارالعلوم کراتشی 
ودل الحدیث ایضاً علی ان من تطفل فی الدعوۃ کان لصاحب الدعوۃ الاختیار فی حرمانہ ۔ فان دخل بغیر اذنہ کان لہ اخراجہ۔۔۔۔وفی قولہ علیہ السلام : ( انہ اتبعنا رجل لم یکن معنا حین دعوتنا)اشارۃ الی انہ لو کان معھم حالۃ الدعوۃ لم یحتج الی الاستئذان علیہ ، فیوخذ منہ ان الداعی لو قال لرسولہ : ادع فلاناً وجلسائہ جاز لکل من کان جلیسا لہ ان یحضر معہ ۔۔۔ وفیہ انہ لا ینبغی ان یظہر الداعی الاجابۃ، وفی نفسہ کراھۃ لئلا یطعم ما تکرہہ نفسہ ولئلا یجمع الریا والبخل وصفۃ ذی الوجہین۔
الموسوعة الفقهية الكويتية (20/335، 336) وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية – الكويت
لا يجوز أن يدخل إلى الولائم وغيرها من الدعوات من لم يدع إليها، فإن في هذا دناءة ومذلة، ولا يليق ذلك بالمؤمن،وفي الحديث من رواية ابن عمر مرفوعا من دخل على غير دعوة دخل سارقا وخرج مغيرا الحديث. ومن يفعل ذلك يسمى الطفيلي. وعلى هذا فالتطفل حرام عند جمهور الفقهاء۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس