بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بغیر نیت کے روزے کا حکم

سوال

رمضان المبارک میں اگر کوئی شخص غروب شمس سے لے کر دوسرے دن کے غروب شمس تک بغیر کسی نیت کے نہ کچھ کھائے اور نہ ہی پیے تو کیا اس کا روزہ شمار ہوگا یا نہیں؟

جواب

بغیر نیت روزے کا حکم

بلا شبہ روزہ کی ادائیگی کے لیے نیت شرط ہے، نیت کے بغیر پورا دن کھانے پینے سے رکا رہنے سے روزہ ادا نہیں ہوتا ،لیکن یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ نیت سے مراد دل میں روزہ رکھنے کا ارادہ ہے ،زبان سے نیت کے الفاظ کہنا ضروری نہیں،زیادہ سے زیادہ مستحب ہیں، لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص نے اگر نصف النہار سے پہلے روزہ رکھنے کا دل سے ارادہ ہی نہیں کیا تو محض بھوکا پیاسا رہنے سے روزہ نہیں ہوا ،اور اگر دل میں روزہ رکھنے کی نیت کی تھی تو روزہ ادا ہو گیا ۔
(مأخذہ: امداد الفتاوی(۴/۲۴۷)دارالاشاعت)
رد المحتار (2/ 403) دار الفكر
 ولا عبادة بدون نية فلو أمسك بدونها لا يكون صائما ويلزمه القضاء دون الكفارة
الفتاوى الهندية (1/ 195) دار الفكر
والنية معرفته بقلبه أن يصوم كذا في الخلاصة، ومحيط السرخسي. والسنة أن يتلفظ بها كذا في النهر الفائق. ثم عندنا لا بد من النية لكل يوم في رمضان كذا في فتاوى قاضي خان. والتسحر في رمضان نية ذكره نجم الدين النسفي
مجمع الأنهر (1/ 243) دار إحياء التراث العربي
(أو لم ينو في رمضان صوما ولا فطرا) مع الإمساك فيجب القضاء لعدم العبادة بفقد النية
تبيين الحقائق (1/ 341) المطبعة الكبرى الأميرية
(وبإمساك بلا نية صوم وفطر) أي يجب عليه القضاء إن أمسك في رمضان عن الأكل والشرب بلا نية صوم ولا فطر
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس