میری بیٹی کی شادی سعودی عرب کے شہر ریا ض میں ہوئی ہے ،الحمدللہ اس کی ایک بیٹی تقریبا دو سال کی ہے ۔بعض اوقات امتحانات کی وجہ سے يا شادی غمی میں شرکت کی وجہ سے اسے سفر کرنا پڑ تا ہے ،شرعی محرم اسے ائیرپورٹ پر چھوڑتا ہے اور شرعی محرم اسے لاہور ائیر پوٹ سے وصول کر تا ہے ۔بچی جہاز میں خواتین کے ساتھ ہی بیٹھتی ہے اور شرعی پردہ کرتی ہے ،بچی کے خاوند کو بعض اوقات چھٹی نہیں ملتی ،میں بھی ایک سر کاری ملازم ہوں اور میرے لیے بھی چھٹی کا حصول ناممکن ہو جا تا ہے ،بچی کے سسر بھی پینسٹھ سال کے ہیں وہ بھی اسے ہر مرتبہ نہیں لاسکتے۔دریا فت طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا ایسے مجبوری کے حالات میں بچی جبکہ کو ئی اس کا محرم دستیا ب نہیں ہے ،سفرکر سکتی ہے کہ نہیں ،جبکہ بعض اوقات انتہائی ضروری سفر در پیش ہو تا ہے ۔
عام حالات میں عورت کیلئے محرم کے بغیر مسافتِ سفر کے بقدر سفر کرنا جائز نہیں ہے خواہ بذریعہ ِہوا ئی جہاز ہی کیوں نہ ہو،البتہ اگر شدید مجبوری ہو کہ سفر کئے بغیر کوئی چارہ نہ رہے اور کوئی محرم ساتھ سفر نہ کرسکتا ہو تو بوجہ ِمجبوری بااعتماد مسلمان خواتین کے ساتھ سفر کی گنجائش ہے ،بشرطیکہ فتنہ کااندیشہ نہ ہو، تاہم اس کا فیصلہ حالات دیکھ کر ہی کیاجاسکتاہے۔ہوائی جہاز کے ذریعہ سفر کرنے میں زیادہ وقت خرچ نہ ہونےکی وجہ سے اس میں فتنے کا اندیشہ کم ہوتاہے اس لئے اگر عورت کو اس کاکوئی محرم ائیر پورٹ پر پہنچادے اور دوسری طرف اس کامحرم رشتہ دار ائیرپورٹ آکر لے جائے ، اور راستہ میں کہیں زیادہ دیر تک ٹھہر نا نہ پڑتا ہو}جیسے بالواسطہ (indirect)پروازوں میں بعض اوقات ائیرپورٹ پر کئی گھنٹے ٹھہرنا پڑتاہے{تو شدید مجبوری میں قابل اعتماد مسلمان خواتین کے ساتھ جہاز میں سفر کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔ ليكن اس ميں گهرسےباہرنکلنےکی جوشرائط ہیں ان کالحاظ رکھناضروری ہے۔
بحوث في قضايا فقهية معاصرة،الشیخ محمد تقی العثمانی(1/337)معارف القرآن
سفر المرأة بغير محرم:أخرج مسلم عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((لا تسافر المرأة فوق ثلاث إلا ومعها زوج أو ذو رحم محرم منها)) هذا الحكم الصريح قد أخذ به جمهور الفقهاء، حتى انهم لم يجوزوا لها أن تسافر بدون محرم لضرورة الحج، وان الدراسة والعمل في البلاد الأجنبية ليس من ضرورة النساء المسلمات في شيء، فإن الشريعة لم تأذن للمرأة بالخروج من دارها إلا لحاجة ملحة، وقد ألزم أباها وزوجها بأن يكفل لها بجميع حاجاتها المالية، فليس لها أن تسافر بغير محرم لمثل هذه الحوائج أما إذا كانت المرأة ليس لها زوج أو أب، أو غيرهما من أقاربهاالذين يتكفلون لها بالمعيشة، وليس عندها من المال ما يسد حاجتها، فحينئذ يجوز لها أن تخرج للاكتساب بقدر الضرورة، ملتزمة بأحكام الحجاب، فيكفي لها في مثل هذه الحال أن تكتسب في وطنها، ولا حاجة لها إلى السفر إلى البلاد الأجنبية، ولو لم تجد بدا من السفر في وطنها من بلد إلى آخر، ولم تجد أحدا من محارمها، ففي مثل هذه الحالة فقط يسع لها أن تأخذ بمذهب مالك، والشافعي، حيث جوزوا لها السفر مع النساء المسلمات الثقات۔