بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

برطانیہ میں بینکوں سےسودی قرضہ لینا

سوال

: میرامسئلہ یہ ہےکہ میری بیٹی کو برطانیہ میں ایک گھررہائش کےلئےدرکارہے۔گھرخرید نےکےلئے بینک سےقرضہ لینامجبوری ہے؛کیونکہ ہم لوگ اتنی رقم ساری عمرجمع نہیں کرسکتے۔کیاہم لوگ بینک سےقرضہ لے کرگھرخریدسکتےہیں ۔

جواب

بینک سے سودی قرضہ لینا ناجائزاورگناہِ کبیرہ ہے ،خواہ مسلم ممالک میں ہو یا غیر مسلم ممالک میں ، اور چاہے گھر خریدنے کیلئےہو یا کسی اور مقصد کیلئے؛لہٰذا سودی قرضہ لینے سے اجتناب ضروری ہے ،البتہ آپ مقامی علماء سے رہنمائی لے کر کسی اسلامی بینک سے معاملہ کرسکتے ہیں ،اور اگر اسلامی بینک کی سہولت میسر نہ ہو توپھروہاں کے لوگوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بینک کے ذمہ داران سے اجتماعی طورپر یہ مطالبہ کریں کہ وہ اسلامی طریقہ ہائے تمویل کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ کریں۔
فتح القدير،العلامة ابن الهمام(م: 861هـ)(7/38)دارالفكر
(قوله ولا بين المسلم والحربي في دار الحرب خلافا لأبي يوسف والشافعي) ومالك وأحمد…. ولأبي حنيفة ومحمد ما روي أنه -صلى الله عليه وسلم- قال «لا ربا بين المسلم والحربي في دار الحرب» وهذا الحديث غريب، ونقل ما روى مكحول عن النبي -صلى الله عليه وسلم -أنه قال ذلك، قال الشافعي:قال أبويوسف: إنما قال أبو حنيفة هذا لأن بعض المشيخة حدثنا عن مكحول عن رسول الله -ﷺ- أنه قال «لا ربا بين أهل الحرب» أظنه قال وأهل الإسلام قال الشافعي: وهذا الحديث ليس بثابت ولا حجة فيه، أسنده عنه البيهقي
ملاحظہ فرمائیں (فتاوی عثمانی،محمدتقی عثمانیؒ 3/ 269،فصل فی الرباواحکام رباالبنوک والمؤسسات المالية الحدیثية ، ط:معارف القرآن کراچی  اورامداد الفتاویٰ مولانااشرف علی تھانویؒ (6/608)رافع الضنک عن منافع البنک  ط:نعمانية)
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس