بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بحث و مبا حثہ کے دوران غصہ میں طلاق دینا

سوال

میری اپنی وائف کے ساتھ بحث ومباحثہ ہوا ،تو میں نے غصہ میں “طلاق دےدی ،طلاق دےدی “کہہ دیا تھا ،اس کے پانچ دن بعد انڈر اسٹینڈنگ ہوگئی اور ہم نے رجوع کرلیا تھا۔اس بات کو تقریبا،6،ماہ ہو گئے ہیں ،اور پانچ ماہ بعد میکے چلی گئی ہے اور اب ان کے گھر والےکہہ رہے ہیں کہ پہلے فتویٰ لاؤ اس کے بعد لڑکی کو بھیجیں گے۔

جواب

سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر درست ہے اور واقعۃً آپ نے “طلاق دے دی” کے الفاظ صرف دو مرتبہ کہے تھےاس سے زیادہ مرتبہ نہیں کہے ،نیز اگراس واقعہ سے پہلے یا بعد میں بھی کسی موقع پر آپ نے اپنی بیوی کے لیے طلاق کے الفاظ تحریری یا زبانی طور پر استعما ل نہیں کیے ،تو ایسی صورتِ حال میں آپ کی بیوی پر صرف دو طلاقیں واقع ہو ئیں ،اور آپ کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق حاصل تھا ،لہٰذا مذکورہ واقعہ کے پانچ دن بعد آپ کا رجوع کرنا شرعا درست اور معتبر ہے، اورآپ کا نکاح باقی ہے ۔البتہ آئندہ آپ کے پاس صرف ایک طلاق کا حق باقی ہے اس لیے طلاق کے معاملہ میں بہت ہی احتیاط کی ضرورت ہے۔
اگر مذکورہ واقعہ میں آپ نے دوسے زیادہ مر تبہ طلاق کے الفاظ استعمال کیے ہوں یامذکورہ واقعہ کے بعد یا پہلے کسی بھی موقع پر طلاق دی ہو تو صورت حال وضاحت کے ساتھ لکھ کر دوبارہ حکم معلوم کریں۔
الفتاوى الهندية، نظام الدين البلخي(1/470)دارالفكر
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتهارضيت بذلك أولم ترض۔
الہداية،العلامة برہان الدين أبو الحسن علي بن أبي بكر (م: 593ہـ)(2/ 254)بيروت
باب الرجعة:” وإذا طلق الرجل امرأتہ تطليقة رجعية أو تطليقتين فلہ أن يراجعہا في عدتہا رضيت بذلك أو لم ترض ” لقولہ تعالى: {فَأَمْسِكُوْہنَّ بِمَعْرُوْفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

6

/

81

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس