بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

باہمی رضامندی سے پلاٹ تقسیم کرنا

سوال

ہمارے والد صاحب نے ایک کنال کا پلاٹ کہوٹہ شہر میں لیا تھا، جس کے چار حصے کیے اور ہم پانچ بھائیوں میں سے تین بھائی علیحدہ علیحدہ مکان میں رہائش پذیر ہوئے اور دو بھائی ایک مکان گراؤنڈ فلور پر اور دوسرے فرسٹ فلور پر رہائش پذیر ہوئے۔
والد صاحب کی وصیت کے مطابق
ہم سب بھائیوں کا متفقہ اتفاق اور فیصلہ ہے کہ معذور بھائی کا گھر اس کے نام کرواکر باقی زمین تقسیم کی جائے ، ہم پانچ بھائی اور ایک بہن ہیں۔ یہ ہماری رائے ہے، اگر کوئی شرعی عذر ہےتو مطلع فرمائیں۔

جواب

مذكوره صورت ميں باہمی رضامندی سے بھائیوں کا آپس میں پلاٹوں کی تقسیم کرنا درست ہے ۔البتہ جس بھائی کے حصے میں پلاٹ کا جتنا حصہ آئے وہ (حصہ) متعین کرکے مالکانہ حقوق کے ساتھ اس کے قبضے میں دے دیا جائے۔
:الدر المختار (5/ 688)دار الفكر
(و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول)۔
:بدائع الصنائع (6/ 119) دار الكتب العلمية
(ومنها) أن يكون محوزا فلا تجوز هبة المشاع فيما يقسم۔
:مجمع الأنهر (2/ 353) دار إحياء التراث العربي
(وتتم) الهبة (بالقبض الكامل) ، ولو كان الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به لقوله – عليه السلام -: «لا تجوز الهبة إلا مقبوضة۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

22

/

68

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس