نمبر۱۔عمر خالد کو کہتا ہے کہ مجھے پودوں کی ضروت ہے ،جبکہ خالد کے پاس وہ پودے موجود نہیں ہیں،خالد عمر کو کہتا ہے کہ پودے مل جائیں گے ،اور ایک پودہ بیس روپے کا ہے ،جبکہ مارکیٹ میں اس کی قیمت پندرہ تا بیس روپے ہے ۔خالد تیسرے شخص سے پودے لے کر عمر کو بھیج دیتا ہے اور بیس روپے قیمت وصول کر کے اپنا نفع رکھتا ہے مشتری کو بتائے بغیر ،آیا اس طرح کرنا درست ہے؟
نمبر۲۔عمر کو پودوں کی ضرورت ہے لیکن عمر کو یہ معلوم نہیں کہ پودے کہاں سے ملیں گے ،یا معلوم ہے لیکن خالد عمر کو تیرے شخص کے پاس لے کر جاتا ہے جس کے پاس پودے موجود ہیں ، اب بائع مشتری کے ثمن طے کرتے وقت خالد بائع(تیسرے شخص) کو اشارتاً یا وضاحتاًکہتا ہے میرا بھی اس میں حصہ رکھنا یعنی پودہ اگر بیس روپے کا ہے تو دو روپےمیرے بھی رکھ کر قیمت لگانا کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟
نمبر۳۔ بائع مشتری کو کہتا ہے مجھے تین فٹ کے پانچ سوپودوں کی ضرورت ہے ،بائع سامنے رکھے پودوں کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے ان میں سے تین فٹ کے جتنے پودے نکل آئیں لے لینا پورے پانچ سو کی ذمہ داری نہیں لیتا اور بائع اور مشتری دونوں اس بات پر راضی بھی ہوجاتے ہیں اس طرح بیع و شراء کرنا درست ہے؟
نمبر۱۔ میں اگر خالد نے یہ کہا کہ میں پودے مہیا کروں گا اور پھر اس نے کسی اور سے پودے خرید کر اس پر اپنا نفع رکھ کر عمر کو فروخت کردیے تو یہ بیع درست ہے ،اس لیے کہ مشتری کو نفع بتانا شرعاً ضروری نہیں۔
نمبر۲۔ میں بھی معاملہ درست ہے ،بشرطیکہ خالد اور تیسرے آدمی کے درمیان پہلے سے طے ہو کہ گاہک لانے پر خالد کو کمیشن ملے گا ،نیز اس میں دھوکہ فراڈ نہ ہو اور کمیشن کا متعین ہونا بھی ضروری ہے ۔
نمبر۳۔ میں اگر ہر پودے کی قیمت متعین کی گئی تھی تو تین فٹ والے جتنے پودے وہاں موجود تھے ان کی بیع بھی درست ہو گئی ۔
:الدر المختار (6/ 5) دار الفكر
وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة۔
:رد المحتار(6/ 63)
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام۔
:الموسوعة الفقهية الكويتية (10/ 152)
يحرم في التجارة جميع أنواع الغش والخداع، وترويج السلعة باليمين الكاذبة۔
:بدائع الصنائع (5/ 156) : دار الكتب العلمية
(ومنها) أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع، وإن كان مجهولا جهالة لا تفضي إلى المنازعة لا يفسد؛ لأن الجهالة إذا كانت مفضية إلى المنازعة كانت مانعة من التسليم والتسلم فلا يحصل مقصود البيع، وإذا لم تكن مفضية إلى المنازعة لا تمنع من ذلك۔
:بدائع الصنائع (5/ 159)
(وأما) الذرعيات: فإن لم يسم جملة الذرعان بأن قال بعت منك هذا الثوب أو هذه الأرض أو هذه الخشبة كل ذراع منها بدرهم فالبيع فاسد في الكل عند أبي حنيفة – رحمه الله – إلا إذا علم المشتري جملة الذرعان في المجلس فله الخيار إن شاء أخذ وإن شاء ترك، وإن لم يعلم حتى إذا تفرقا تقرر الفساد، وعند أبي يوسف ومحمد يجوز البيع في الكل ويلزمه كل ذراع منه بدرهم۔۔۔وقولهما يمكن رفع هذه الجهالة مسلم لكنها ثابتة للحال إلى أن ترتفع، وعندنا إذا ارتفعت في المجلس ينقلب العقد إلى الجواز؛ لأن المجلس وإن طال فله حكم ساعة العقد۔