رضوان احمد نے اپنی منکوحہ کو 15-9-2018 کو اپنی زبان سے تین بار طلاق دی (طلاق طلاق طلاق) ۔پھر معززین رشتہ داروں نے آپس میں بیٹھ کر ہماری صلح کروائی اور مختلف علماء سے فتوی لیا جس میں یہ بات تھی کہ مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی ہیں ۔لہذا ہم نے دوبارہ ساتھ رہنا شروع کردیا ۔لیکن اس کے بعدبھی ہمارے تعلقات بحال نہ ہوئے بلکہ لڑائی جھگڑے چلتے رہے اور مختلف اوقات میں میں نے اپنی بیوی کو تین مزید طلاقیں الگ الگ کرکے دی۔ اس طرح مزید تین طلاقیں واقع ہوگئیں ۔اب ہم اپنی غلطی پر شرمندہ ہیں اور کیا کرسکتے ہیں جبکہ 4 بچے بھی ہیں ۔ راہ نمائی فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں جب شوہر نے 15/09/2018 کو تینوں طلاقیں دے دی تھیں تو اسی وقت تینوں طلاقیں واقع ہو کر ان کے درمیان حرمت مغلظہ ثابت ہوگئی تھی ۔اور وہ دونوں ایک دوسرے پر حرام ہو چکے تھےاور ان کا آپس میں اکٹھے رہنا جائز نہیں تھا ۔طلاق ثلاثہ کے بعد آپس میں اکٹھے رہنے کی وجہ سے حرام کاری میں مبتلا تھے ان کو چاہیے کہ اللہ کے حضور توبہ استغفار کریں۔ اب خاتون اپنے اولیا کی سر پرستی میں دوسری جگہ شادی کرنا چاہے تو کر سکتی ہے اگر دوسری جگہ شادی ہوجائے اور با قاعدہ ہمبستری بھی ہوجائے پھر دوسرے شوہر کا انتقال ہو جائے یا وہ کسی وجہ سے طلاق دے دے تو یہ خاتون عدت گزار کر باہمی رضا مندی سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے عوض پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے ۔لیکن واضح رہے کہ حلالہ کی شرط پر دوسری جگہ نکاح کرنا نا جائز و گناہ کبیرہ ہے ۔
صحیح البخاری(2/792)محمودیۃ
وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك»۔
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (20/ 331)رشیدیۃ
وَمذهب جَمَاهِير الْعلمَاء من التَّابِعين وَمن بعدهمْ مِنْهُم: الْأَوْزَاعِيّ وَالنَّخَعِيّ وَالثَّوْري وَأَبُو حنيفَة وَأَصْحَابه وَمَالك وَأَصْحَابه وَمَالك وَأَصْحَابه وَالشَّافِعِيّ وَأَصْحَابه وَأحمد وَأَصْحَابه، وَإِسْحَاق وَأَبُو ثَوْر وَأَبُو عبيد وَآخَرُونَ كَثِيرُونَ، عل أَن من طلق امْرَأَته ثَلَاثًا وقعن، وَلكنه يَأْثَم، وَقَالُوا: من خَالف فِيهِ فَهُوَ شَاذ مُخَالف لأهل السّنة۔
الفتاوى الهندية (1/506)بیروت
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية۔