ہمارا بہنوئی آن لائن کام میں جوا کھیلتا ہے اور لوگوں سے جھوٹ بول بول کر کروڑوں تک کا قرضہ لے چکا ہے اور ہماری بہن کو خرچہ بھی نہیں دیتا تقریباً دو تین سال سے اور بہن کا جہیز اور زیورات وغیرہ بھی بیچ کھایا ہے اور کوئی کام بھی نہیں کرتا ، تو تنگ آ کر ہم نے اپنے بہنوئی کو گھر بلا کر اس سے زبر دستی زبانی تین طلاق اپنی بہن کو دلوا دی تو پوچھنا یہ ہے کہ کیا طلاق واقع ہو گئی ہے ؟
ہم نے اپنے بہنوئی کو گھر بلا کر اس کو بہت کہا کہ طلاق دو اور میرے بڑے بھائی نے اسے ایک تھپڑ بھی مارا پھر اس نے اس طرح کہا میری بہن سامنے ہی تھی کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،تین بار کہا ۔
مذکورہ صورت حال اگر حقیقت اور درست معلومات پر مبنی ہے تو شرعی حکم یہ ہے کہ آپ کی بہن پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ۔ اس کے بعد ان دونوں کے لیے اکٹھا رہنا حرام ہے، اور عورت عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ شادی کر سکتی ہے ۔ تا ہم واضح رہے کہ دروغ گوئی سے کام لینے کی صورت میں اس کی تمام تر ذمہ داری سوال پوچھنے والے پر ہے ، کیونکہ مفتی سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہے۔
قال اللہ تعالی:[البقرة: 230]
{ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}
الفتاوى الهندية (1/ 355)
رجل قال لامرأته أنت طالق أنت طالق أنت طالق فقال عنيت بالأولى الطلاق وبالثانية والثالثة إفهامها صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا كذا في فتاوى قاضي خان
الفتاوى الهندية (1/ 473)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية
الدر المختار (3/ 293)
كرر لفظ الطلاق وقع الكل
رد المحتار (3/ 293)
(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق
الدر المختار (3/ 235)
(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح لا إقراره بالطلاق
رد المحتار (3/ 235)
(قوله فإن طلاقه صحيح) أي طلاق المكره………… وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق
امداد الاحکام (2/442)،فتاوٰی محمودیہ (12/422) ،فتاویٰ عثمانیہ (6/114)