میرےپاس ایک پلاٹ ہےجس کی قیمت اس وقت دوکروڑروپےہے اوربندہ اس میں دوکان وغیرہ تعمیرکرناچاہتاہے جس کا بعدمیں مجھےکرایہ ملےگااب اس کوبنانےمیں تقریباًپچیس لاکھ کاخرچہ آتاہے اورمیرےپاس اتنےپیسےنہیں ہیں اورمیں اس میں دوسروں کوشرکت کی بنیادپراپنےساتھ شریک کرناچاہتاہوں اب اس کا شرعی طریقہ کار کیاہوگا؟اس وقت میرےپاس دس لاکھ روپےموجودہیں میں صرف ایک آدمی کوشریک کرناچاہتاہوں جس سےمیں پندرہ سےبیس لاکھ روپےلےکرشریک کرناچاہتاہوں۔امیدیہی ہےکہ تعمیرپرتیس لاکھ سےکم خرچہ آئےگا۔
صورتِ مسئولہ میں سب سےآسان طریقہ یہ ہےکہ آپ اپنی دکان میں جتنے حصےکے بقدر دوسرے آدمی کوشریک کرناچاہتے ہیں اس کوپلاٹ میں سےاتناحصہ قیمت طےکرکےفروخت کردیں،اس کےبعداس کوتعمیرمیں بھی اسی تناسب سے شریک کرلیں مثلاً اس کواپنےپلاٹ کاگیارہواں حصہ مکمل پلاٹ کی قیمت کےگیارہویں حصےکےعوض فروخت کرلیں،پھرتعمیرمیں بھی اس سےکل لاگت کاگیارہواں حصہ وصول کرلیں اس طرح کرنےسےشرکت درست ہوجائےگی اوراب وہ آپ کےساتھ دکان میں گیارہویں حصے کےتناسب سےشریک ہوجائےگایعنی کل دکان کےگیارہ حصوں میں سے دس حصے آپ کےہیں اورایک حصہ اس کا، اس کےبعدآپس میں یہ طےکرلیں کہ دونوں شریک اپنےاپنےحصوں کےبقدرنفع میں شریک ہوں گے، جتنانفع (بصورتِ کرایہ) حاصل ہوگااس کےگیارہ حصے کئےجائیں گے جس میں سےدس حصے آپ کوملیں گے اورایک حصہ آپ کاشریک وصول کرلےگا۔
دررالحكام في شرح مجلة الأحكام،علي حيدر (م:1353هـ)(3/8)دارالجيل
لو باع شخص نصف الدار التي يملكها مستقلا لآخر شائعا فتصبح تلك الدار مشتركة بينهما شركة ملك اختيارية۔
وفيه(3/26)دارالجيل
تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة۔