ایک آدمی نے کسی فیکٹری سے ایک سال کے لیے، بجلی کی تمام چیزیں صحیح کرنے کی سروس فراہم کرنے کا معاہدہ کرنا ہے، اس معاہدے میں کیا شرائط ہوں کہ شریعت کے مطابق ہوجائے۔
شرعی طور پر ذکر کردہ معاملے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کی پابندی ضروری ہے۔
نمبر۱۔ کام کرنے والے کے ذمہ کیا کیا کام ہوں گے، ان کاموں کی نوعیت کی وضاحت پہلے سے کرنا ضروری ہے
نمبر۲۔ اجرت کی تعیین کرنا ضروری ہے۔
نمبر۳۔ اس معاملے کی کل مدت کی تعیین ضروری ہے۔
نمبر۴۔ جس چیز میں ابہام کی وجہ سے اختلاف یا نزاع کا خطرہ ہو تو اس کی تعیین اور وضاحت پہلے سے ضروری ہے۔
ان شرائط پر عمل کرتے ہوئے مذکورہ معاہدہ کرنا درست ہے۔
المبسوط للسرخسي (15/185)رشیدیۃ
فإن كان اشترط عليه حين دفع الغنم إليه أن يولدها ويرعى أولادها معها فهو فاسد في القياس؛ لأن المعقود عليه هو العمل فلا بد من إعلامه، وإعلامه ببيان محله وهنا محل العمل مجهول؛ لأنه لا يدري ما تلد منها وكم تلد وجهالة المعقود عليه مفسدة للعقد ولكنه استحسن ذلك فأجازه؛ لأنه عمل الناس ولأن هذه الجهالة لا تفضي إلى المنازعة بينهما، والجهالة بعينها لا تفسد العقد فكل جهالة لا تفضي إلى المنازعة فهي لا تؤثر في العقد۔
تحفۃ الفقھاء(2/42) رشیدیۃ
فاما الجھالۃ التی لا تقضی الی المنازعۃ فلا تمنع الجواز۔
شرح المجلۃ (4/220) رشیدیۃ
(ضمان العمل توع من العمل فاذاتشارک اثنان شرکۃ صنایع بان وضع شخص فی دکانہ آخر من ارباب الصنایع علی انما یتقبلہ ہو و یتعھدہ من الاعمال بعمل الاخر ذلک وما یحصل من الکسب یعنی الاجرۃ بینھما مناصفۃ تکون جائزۃ واستحقاق صاحب الدکان النصف بسبب کونہ ضامنا و متعھدا للعمل وفی ضمن ذلک ایضاً یصیر نائلا منفعۃ دکانہ) قولہ ضمان العمل تقلبہ والتعھدبہ حتی صار مضمونا علیہ..۔