ہندہ کی ملکیت میں ایک تولہ سونا جس کی بازاری قیمت تقریبا ساٹھ ہزار روپے بنتی ہے موجود ہے اس کے علاوہ کچھ نقدی بھی موجود ہے ۔ جبکہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت ان دنوں بازار میں تقریبا 47ہزار بن رہی ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ چاندی کے نصاب کے اعتبار سے توہنده صاحب نصاب ہے مگر سونے کا نصاب مکمل نہیں ہے لیکن سونے کے ساتھ نقدی موجود ہونے کی وجہ سے کیا ہندہ صاحب نصاب ہوگا اور اس پر قربانی واجب ہوگی اور حولانِ حول پر زکوۃ بھی واجب ہوگی ؟
الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(2/ 299)ایچ۔ایم۔سعید
ولو بلغ بأحدهما نصابا دون الآخر تعين ما يبلغ به۔
الفتاوى الهندية،لجنة علماء برئاسة نظام الدين البلخي(1/ 179)رشيدية
وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز. حتى لو ملك مائة درهم خمسة دنانير قيمتها مائة درهم تجب الزكاة عنده خلافا لهما۔
الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ) (6/ 312)ایچ۔ایم۔سعید
وشرعا (ذبح حيوان مخصوص بنية القربة في وقت مخصوص. وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر)۔
رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(6/ 312)ایچ۔ایم۔سعید
(قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل تلزم لو قيمته نصابا،وقيل لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه۔