بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ایک بہن اور چار بھائیوں کے درمیان تقسیم میراث

سوال

میرے والدصاحب والدہ صاحبہ سے پہلے فوت ہوگئے تھے،والدہ بعد میں فوت ہوئی ہیں۔والد(مرحوم)کے نام رجسٹری میں 3مرلہ 40(سکیور) اور والدہ (مرحومہ)کے نام بھی اتنی ہی زمین رجسٹرڈ ہے،کل رقبہ 6مرلہ 80(سکیور) ہے۔میرے چار بھائی اور میں ان کی اکلوتی بہن ہوں، اب اس مذکورہ رقبے میں میرا کتنا حصہ ہے اور میرے بھائیوں کا کتنا حصہ ہے؟ جبکہ مذکورہ رقبے پر تین منزلہ عمارت بنی ہوئی ہے،اور اس عمارت پر سب کچھ میرے والد صاحب نے ہی لگایا ہے،بھائیوں نے کچھ خرچ نہیں کیا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کے مرحوم والد اور والدہ مرحومہ کے والدین اگر زندہ نہ ہوں تو ان کی کل جائیداد(مال ودولت)اور مذکورہ تین منزلہ عمارت میں سے حقوق متقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کے بعد بقیہ کل مال کے 9 برابر حصے کیے جائیں،9 حصوں میں سے ایک حصہ بیٹی کو اور بقیہ 8 حصوں میں سے ہر بیٹے کو دو ،دو حصے دیے جائیں۔تقسیم ِمیراث کا نقشہ حسبِ ذیل ہے۔
مسئلہ ۹
بنت ابن ابن ابن ابن
1 2 2 2 2
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس