میرے والدصاحب والدہ صاحبہ سے پہلے فوت ہوگئے تھے،والدہ بعد میں فوت ہوئی ہیں۔والد(مرحوم)کے نام رجسٹری میں 3مرلہ 40(سکیور) اور والدہ (مرحومہ)کے نام بھی اتنی ہی زمین رجسٹرڈ ہے،کل رقبہ 6مرلہ 80(سکیور) ہے۔میرے چار بھائی اور میں ان کی اکلوتی بہن ہوں، اب اس مذکورہ رقبے میں میرا کتنا حصہ ہے اور میرے بھائیوں کا کتنا حصہ ہے؟ جبکہ مذکورہ رقبے پر تین منزلہ عمارت بنی ہوئی ہے،اور اس عمارت پر سب کچھ میرے والد صاحب نے ہی لگایا ہے،بھائیوں نے کچھ خرچ نہیں کیا۔
صورتِ مسئولہ میں آپ کے مرحوم والد اور والدہ مرحومہ کے والدین اگر زندہ نہ ہوں تو ان کی کل جائیداد(مال ودولت)اور مذکورہ تین منزلہ عمارت میں سے حقوق متقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کے بعد بقیہ کل مال کے 9 برابر حصے کیے جائیں،9 حصوں میں سے ایک حصہ بیٹی کو اور بقیہ 8 حصوں میں سے ہر بیٹے کو دو ،دو حصے دیے جائیں۔تقسیم ِمیراث کا نقشہ حسبِ ذیل ہے۔