میں ایک دکاندار ہوں لوگ مجھےسے چیزیں خریدتے رہتے ہیں جب وہ پیسے میرے ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں بھیجتے ہیں تو میں ان سے 1000 روپے پر 20 روپے اضافی لیتاہوں کیونکہ جب میں وہ پیسے نکلوتاہوں تو مجھ سے 20 روپے کٹوتی ہوتی ہے لیکن بعض دفعہ ایسا ہوجاتاہے کہ مجھے نکلوانے کی ضرورت نہیں پڑ جاتی بلکہ اکاؤنٹ سے آگے کسی کو بھیج دیتاہوں کیا اس صورت میں میرے لئے وہ اضافی 20 روپے لینا جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں جب پیسے نکالنے کی ضرورت نہیں پڑتی تو وہ اضافی رقم آپ کےلئے وصول کرنا جائز نہیں، ہاں اگر آپ گاہک کے سامنے صورتِ حال واضح کردیں کہ بعض اوقات مجھے پیسے نہیں نکالنے پڑتے پھر بھی وہ اضافی رقم دےدے تو آپ کےلئے یہ اضافی رقم حاصل کرنا اور اپنے استعمال میں لانا جائز ہوگا۔
السنن الكبرى للبيهقي (5/ 573) دار الكتب العلمية، بيروت
عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا
سنن البيهقي الكبرى (6/ 100) دار الحرمين القاهرة
عن أبي حرة الرقاشي عن عمه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه
المعیار الشرعی رقم(19)
یجوز للمؤسسۃ المقرضۃ أن تاخذ علی خدمات القروض مایعادل مصروفاتھا الفعلیۃ المباشرۃ، ولایجوز لھا أخذ زیادۃ علیھا، وکل زیادۃ علی المصروفات الفعلیۃ محرمۃ