ضلع استور موضع عیدگاہ میں ایک پرانا اجتماعی قبرستان ہے جس میں شیعہ و سنی دونوں فریقین کے موتیٰ مدفون ہیں اور قبرستان کی اکثر قبریں 30 سے 40 سال بلکہ اس سے بھی زیادہ پرانی ہیں۔ اب اہل تشیع حضرات نے تقریبا چار کنال جگہ جو اجتماعی قبرستان کی تھی، اس میں کوئی بھی شخص مدفون نہیں تھا اپنے مردوں کے لیے برابر کر کے مختص کی ہے اور اہل سنت حضرات کو کہا ہے کہ بقیہ قبرستان کو جس میں پرانی قبریں ہیں اس کو برابر کر کے اپنے لیے مختص کریں۔
یہ بات واضح رہے کہ قبرستان مشترک ہے اور جوجگہ اہل سنت کے حصے میں آیا ہے اس میں اہل تشیع اور اہل سنت کے موتیٰ مدفون ہیں۔
نمبر1۔ اب اہل سنت اس بوسیدہ قبرستان میں مٹی ڈال کر اس کو میدان بنائیں اور اپنے موتیٰ کو دفن کریں گے۔ ازر وئے شریعت کیا اہل سنت احباب اس بوسیدہ قبرستان کو مٹی ڈال کر برابر کر سکتے ہیں اور اپنے موتیٰ کو وہاں دفن کر سکتے ہیں؟
نمبر 2۔ اسی قبرستان کی باؤنڈری وال کے باہر کی جانب کچھ قبریں واقع ہیں اور ان قبروں اور باؤنڈری وال کے درمیان ایک پرانی سڑک واقع ہے جس کی وجہ سے ان قبروں کی بے حد بے حرمتی ہوتی ہے، کیا ان قبروں کو اُکھیڑ کر باقیات کو قبرستان میں دفن کر کے باؤنڈری وال کو مزیدکشادہ کریں اور سڑک کو تھوڑا سا ایک طرف کر کے جہاں کچھ قبریں ہیں وہاں روڈ کے لیے جگہ مختص کی جائے اور باؤنڈری وال کے ساتھ جو جگہ ہے یعنی پرانی سڑک کیااس کو قبرستان میں داخل کر سکتے ہیں۔
تنقیح:باؤنڈری لائن کے باہر جو قبریں ہیں کیا وہ بھی وقف قبرستان کا حصہ ہیں یا الگ سے ہیں؟
جوابِ تنقیح:وہ جگہ بھی کسی زمانے میں قبرستان کا حصہ تھی، لیکن باؤنڈری لائن نہیں لگی تھی پھر درمیان سے سڑک بنائی گئی اور پھر لوگوں کو شعور آیا تو انہوں نے مزید توسیع سے روکنے کے لیے وہاں باؤنڈری لائن بنائی۔
نمبر(1۔2): صورت مسئولہ میں جب قبریں واقعتاً اس قدر بوسیدہ اور پرانی ہو چکی ہیں کہ ان میں موجود میت کی ہڈیاں گل سڑ چکی ہیں تو اس صورت میں ان پر مٹی ڈال کر نئی قبریں بنائی جا سکتی ہیں۔
نیز واضح رہے کہ قبرستان کے لیے وقف شدہ زمین پر سڑک بنانا جائز نہیں ،لہذا سڑک کے لیے متبادل جگہ کا انتظام کیا جائے، البتہ اگر قبرستان کے علاوہ دوسری جگہ سے راستہ نکالنے کی کوئی ممکنہ صورت نہ ہو اور راستہ نہ ہونے کی صورت میں عوام کو حرجِ شدید کا سامنا ہو تو مفاد عامہ کے تحت قبرستان کی بقیہ جگہ اور ان قبروں پر جو بوسیدہ ہو چکی ہوں، راستہ نکال سکتے ہیں البتہ ان بوسیدہ قبروں میں سے مردوں کی باقیات نکالنے کی ضرورت نہیں۔
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (4/ 179)
فإن قلت: هل يجوز أن تبنى على قبور المسلمين؟ قلت: قال ابن القاسم: لو أن مقبرة من مقابر المسلمين عفت فبنى قوم عليها مسجدا لم أر بذلك بأسا، وذلك لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمين لدفن موتاهم لا يجوز لأحد أن يملكها، فإذا درست واستغنى عن الدفن فيها جاز صرفها إلى المسجد، لأن المسجد أيضا وقف من أوقاف المسلمين لا يجوز تملكه لأحد
البحر الرائق (2/ 210) دار الفكر-بيروت
(قوله ولا يخرج من القبر إلا أن تكون الأرض مغصوبة) أي بعد ما أهيل التراب عليه لا يجوز إخراجه لغير ضرورة للنهي الوارد عن نبشه وصرحوا بحرمته وأشار بكون الأرض مغصوبة إلى أنه يجوز نبشه لحق الآدمي كما إذا سقط فيها متاعه أو كفن بثوب مغصوب أو دفن في ملك الغير أو دفن معه مال أحياء لحق المحتاج قد أباح النبي – صلى الله عليه وسلم – نبش قبر أبي رعال لعصا من ذهب معه» كذا في المجتبى قالوا، ولو كان المال درهما ودخل فيه ما إذا أخذها الشفيع فإنه ينبش أيضا لحقه كما في فتح القدير
حاشية ابن عابدين(2/ 233) دار الفكر-بيروت
ولو بلي الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه اهـ
رد المحتار(2/ 233) دار الفكر-بيروت
ولا يحفر قبر لدفن آخر إلا إن بلي الأول فلم يبق له عظم إلا أن لا يوجد فتضم عظام الأول ويجعل بينهما حاجز من تراب. ويكره الدفن في الفساقي
الفقه على المذاهب الأربعة (1/ 488)
يحرم نبش القبر ما دام يظن بقاء شيء من عظام الميت فيه، ويستثنى من ذلك أمور: منها أن يكون الميت قد كفن بمغصوب، وأبى صاحبه أن يأخذ القيمة، ومنها أن يكون قد دفن في أرض مغصوبة، ولم يرص مالكها ببقائه، ومنها أن يدفن معه مال بقصد أو بغير قصد، سواء كان هذا المال له أو لغيره، وسواء كان كثيراً أو قليلاً، ولو درهماً، سواء تغير الميت أو لا، وهذا متفق عليه
حاشية الطحطاوي (ص: 612) دار الكتب العلمية بيروت
ولو بلي الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره ولا يجوز كسر عظامه ولا تحويلها ولو كان ذميا ولا ينبش وإن طال الزمان وأما أهل الحرب فلا بأس بنبشهم إن احتيج إليه
نیز ملاحظہ فرمائیں(امداد الفتاوی576/5/)