بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اہلیہ سے کا روبار کے لئے رقم لینا

سوال

میں نے اپنی اہلیہ سے کا روبا ر ی ضرورت کے لئے کچھ رقم لی ، لیتے وقت یہ طے نہیں ہوا تھا کہ ان کو نفع میں شریک کروں گا اب مذ کورہ رقم واپس کرنا چاہتا ہوں تو کیا نفع کے طور پر زیا دہ دے سکتا ہوں ۔

جواب

مذکورہ صورت میں اگر آپ نے اپنی اہلیہ سے رقم شرکت یا مضاربت وغیرہ کے لئے نہیں لی بلکہ بطور قرض لی تھی اور قرض پر اضافی رقم کی ادائیگی کی شرط بھی نہیں تھی تو اس صورت میں اصل رقم کے ساتھ جتنی آپ چاہیں اضافی رقم حسن اداء کے طوپر دے سکتے ہیں، یہ نفع نہیں ہوگا ۔
مشكاة المصابيح، محمد بن عبد الله الخطيب(م: 741ھ)(2/883) المكتب الإسلامي
وعن جابر – رضي الله عنه – قال: كان لي على النبي  دين فقضاني، وزادني رواه أبو داود۔
مرقاة المفاتيح،علي بن(سلطان)محمد(م: 1014ھ)(5/1954)دارالفكر
من استقرض شيئا فرد أحسن أو أكثر منه من غير شرطه كان محسنا ويحل ذلك للمقرض، وقال النووي – رحمه الله: يجوز للمقرض أخذ الزيادة سواء زاد في الصفة أو في العدد۔
  سنن أبي داود،سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني (م: 275ھ)(3/ 248)المكتبة العصرية،صيدا
حدثنا أحمد بن حنبل، حدثنا يحيى، عن مسعر، عن محارب بن دثار، قال: سمعت جابر بن عبد اللہ، قال: «كان لي على النبي صلى اللہ عليہ وسلم دين فقضاني وزادني»۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس