بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اگر کوئی شخص یہ میسج پڑھ لےکہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی قسم…الخ اس پرکفارہ لازم ہوگایانہیں؟

سوال

آج کل موبائل میں  بہت سے خرافات ہیں ان میں سےایک المیہ میسج کابھی ہےکہ موبائل پر طرح طرح کے میسج بھیج دیئےجاتےہیں بعض میسج جونصیحت آموزہوتےہیں اوربعض میسج انسان کےایمان کو خطرےمیں ڈال دیتےہیں انہی میسجوں میں سے ایک میسج یہ ہےکہ میسج کےشروع میں یہ لکھا ہواتھا جس کا  مفہوم یہ ہےکہ اس میسج کواگرآگےبھیجوگےتوپوراپڑھناورنہ مٹادینااوردرمیان بہت جگہ خالی چھوڑکرآگےلکھاہواتھا مجھےمحمد صلی  اللہ علیہ وسلم کی قسم میں کلمے طیبہ(لا اله الا الله محمد رسول الله)کو  دس آدمیوں تک پہنچاؤں گا۔اب اس کوپڑھنےکےبعدپڑھنےوالےنےاس کوکسی کی طرف نہیں بھیجااورمٹادیا۔اب آیا اس پڑھنے والےپر کفارہ ہوگایانہیں اورکلمہ کوموبائل کےذریعہ دوسروں تک بھیجنا ضروری ہوگایابغیرموبائل یعنی آمنےسامنے دس بندوں کو یہ کلمہ سنانے سے یہ قسم پوری ہوجائیگی یا نہیں  ؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں مذکورہ الفاظ مجھے محمد صلی  اللہ علیہ وسلم کی قسم میں کلمے طیبہ )لا اله الا الله محمد رسول الله(کودس آدمیوں تک پہنچاؤں گاپڑھنےسےقسم منعقدنہیں ہوگی لہٰذانہ تواسےپوراکرناضروری ہےاورنہ ہی پورانہ کرنےکی صورت میں کفارہ لازم ہوگا۔
الدر المختار،العلامةعلاء الدين الحصكفي(م:1088هـ)(3/48، 56) رشیدیة کوئتة
(اليمين) لغة القوة. وشرعا (عبارة عن عقد قوي به عزم الحالف على الفعل أو الترك)…. (لا) يقسم (بغير الله تعالى كالنبي والقرآن والكعبة)۔
رد المحتار،العلامةابن عابدين الشامي(م:1252هـ) (3/56) رشیدیة کوئتة قدیم
(قوله لا يقسم بغير الله تعالى) عطف على قوله والقسم بالله تعالى: أي لا ينعقد القسم بغيره تعالى أي غير أسمائه وصفاته۔
 درر الحكام شرح غرر الأحكام، محمد بن فرامرزالشهير بملاخسرو(م:885هـ)(2/40) دار إحياء الكتب العربية
(لا) أي لا يقسم (بغير الله تعالى كالنبي، والقرآن، والكعبة) لقوله – صلى الله عليه وسلم – «من كان منكم حالفا فليحلف بالله أو ليذر» هذا إذا قال: والنبي، والقرآن

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس