بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اگر میں کل صبح تک پیسے نہ دے سکا تو میری بیوی کو طلاق

سوال

میں نے کسی کا قرض دینا تھا۔ اس کے پریشر میں آکر اس کے ہی اصرار پر اور اس شخص کے ہی مجبور کرنے پر میں نے اس کو فون پر یہ بولا کہ “اگر میں کل صبح تک پیسے نہ دے سکا تو میری بیوی کو طلاق” تو کیا ایسے میری بیوی کو طلاق ہوگئی ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں جب آپ نے فون پر یہ بات کہی کہ “اگر میں کل صبح تک پیسے نہ دے سکا تو میری بیوی کو طلاق”لہذا مذکورہ صبح تک اگر آپ نے پیسے ادا نہیں کیے تو ایک طلاق رجعی واقع ہو جائے گی اور آپ اپنی بیوی سے عدت کے دوران رجوع کر سکتے ہو اور اس کے بعد آپ کو دو طلاقوں کا حق رہے گا۔
:الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطلاق(1/457)بیروت
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا۔
:الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطلاق(1/504)بیروت
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية۔
:البحر الرائق(3/570)رشيدية
المعلق بالشرط کالمرسل عند وجود الشرط۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس