بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اگر میں نے یہ کام کیا تو میری بیوی کو طلاق غیر مدخول بہا کو دوبارہ کہا

سوال

ایک بندہ کومشت زنی کی عادت تھی کئی مرتبہ قسم اٹھانےاورتوبہ کرنےکےباوجوداس بدفعلی کا مرتکب ہوتا،ایک مرتبہ اُس نےمشت زنی کی اورفوراًکہا،کہ اگرمیں نےدوبارہ یہ کام کیاتومیری عورت کوطلاق ہوگی،لیکن اُس کےدل میں شک(وسوسہ)پیداہواکہ میں نےمذکورہ جملہ صحیح اداکیاہےیانہیں،اسی جملہ کو دہرانےکیلئےدوبارہ کہا(یعنی پہلےجملہ کوصرف پکاکرنےکےلیے کہا)یعنی اس کادومرتبہ جملہ کہنےکاارادہ نہ تھا۔اس کا ارادہ تھاکہ مشت زنی کی عادت مجھ سےچھوٹ جائے۔اورجب کہ بندہ کاارادہ عورت کوطلاق دینےکانہ تھا۔یہ طلاق کالفظ اس لیےبولاتاکہ میں اس بد فعلی سےرُک جاؤں۔کیونکہ میراعورت کےساتھ کوئی جھگڑانہ تھانہ ہی نفرت  جب کہ میراصرف نکاح ہےابھی رخصتی بھی نہیں ہوئی  توآیااس صورت میں طلاق واقع ہوئی یانہیں  اگر طلاق واقع ہوگی تو کونسی واقع ہوئی،رجعی ہوگی یا بائن دونوں صورتوں کی وضاحت کردیں ؟                                                  نوٹ :  بندہ کو لفظِ طلاق ابھی تک ایک مرتبہ یاد ہےاورنکاح کےبعد خلوت صحیحہ بھی نہیں پائی گئی

جواب

اگرواقعتا ًدوسرےجملےسےپہلےجملےکی تاکیدمقصودتھی اورنکاح کےبعدخلوت صحیحہ بھی نہیں ہوئی تھی توصورتِ مسئولہ میں  مذکورہ کام کرنےکی وجہ سے دیانتاًایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔
الدر المختار،العلامةعلاء الدين الحصكفي (م:1088هـ)(2/492) رشیدیة کوئتة قدیم
وفی التنویر (قال لزوجته غير المدخول بها أنت طالق ثلاثاوقعن وإن فرق بانت بالأولى ولم تقع الثانية.  وفی الشرح (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل۔
الهداية، برهان الدين علي بن أبي بكر (م:593هـ)(2/324) رحمانیة
” وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق ” اتفق جمهور الفقهاء على صحة اليمين بالطلاق أو تعليق الطلاق على شرط مطلقا، إذا استوفى شروط التعليق الآتية: فإذا حصل الشرط المعلق عليه وقع الطلاق، دون اشتراط الفور إلا أن ينويه، وإذا لم يحصل لم يقع، سواء في ذلك أن يكون الشرط المعلق عليه من فعل الحالف أو المحلوف عليها، أو غيرهما، أو لم يكن من فعل أحد، هذا إذا حصل الفعل المعلق عليه طائعا ذاكرا التعليق، فإن حصل منه الفعل المعلق عليه ناسيا أو مكرها وقع الطلاق به أيضا عند الجمهور۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس