بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اگر فلاں کے لیے چائے بنائی تو تجھے طلاق

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا اگر فلاں کے جائے بنائی تو تجھے طلاق، اب ایک دن اس مہمانوں کے لیے چائے بنائی، یہ بھی اس وقت پہنچ گیا اور چائے پی، کیا اس سے طلاق واقع تو نہیں ہوئی؟

جواب

صورتِ مذکورہ میں شوہر نے عورت کی طلاق کو کسی خاص شخص کے لئے چائے بنانے کے ساتھ معلق کردیا؛ جبکہ عورت نے مہمانوں کے لئے چائے بنائی ،نہ کہ اس خاص شخص کے لئے،لہذا شرط نہیں پائی گئی اس لئے طلاق بھی واقع نہیں ہوئی۔
:الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق (1/ 457)بيروت
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك۔
الهداية، كتاب الطلاق،باب الايمان في الطلاق(2/ 398)حبيبيه رشيدية
وإذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح مثل أن يقول لامرأة إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق۔۔۔۔” وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق ” وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا “۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس