بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اکراہ کی صورت میں تحریری طلاق اور اسےعدم طلاق کی نیت

سوال

اگر کسی شخص کی بیوی طلاق مانگے اور یہ کہے کہ طلاق دو، نہیں تو میں خود بھی زہر کھالوں گی اور تمہارے دو سال کے بچے کو بھی زہر دےدوں گی ۔اور اس بات کا غالب امکان ہو کہ وہ جو کہتی ہے کر گذرےگی، تو کیا اس نیت کے ساتھ تحریری طور پر طلاق دی جاسکتی ہے کہ میں صرف موقع سنبھالنے کے لیے طلاق دے رہا ہوں (جبکہ دل میں یہ خیال کرتا ہو کہ سچ میں وہ طلاق نہیں دے رہا ) تو کیا طلاق ہو جائے گی یا کچھ گنجائش ہے ؟ تحریری طلاق کے الفاظ یہ ہیں ؛ میں طلاق دیتا ہوں ؛ دستخط۔
یہ امر زیر غور رہے کہ طلاق کی نیت ہر گز نہیں تھی اور طلاق کے الفاظ منہ سے ادا نہیں کیے گئے ۔
ملحوظہ: واضح رہے کہ سائل اس سے قبل زبانی طو ر پر دو طلاقیں دے چکا ہے۔

جواب

مذکورہ صورت میں اگر اکراہ اس قسم کا تھاکہ جس کی وجہ سے شوہر کو ظن غالب تھا کہ طلاق نہ دینے کی صورت میں بیوی بچے کو زہر دےدے گی ، تو صرف لکھنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔
رد المحتار،ابن عابدين،محمد أمين بن عمر(م:1252ھ) (3/ 236)دارالفكر
 وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق۔
وفيه ایضًا(6/ 130)دارالفكر
قال الزيلعي: والإكراه بحبس الوالدين أو الأولاد لا يعد إكراها لأنه ليس بملجئ ولا يعدم الرضا بخلاف حبس نفسه اه لكن في الشرنبلالية عن المبسوط: أنه قياس وفي الاستحسان حبس الأب إكراه وذكر الطوري أن المعتمد أنه لا فرق بين حبس الوالدين والولد في وجه الاستحسان۔
  البحر الرائق،العلامة ابن نجيم(م: 970ھ)(3/ 264)دارالكتاب الإسلامي
وقيدنا بكونہ على النطق لأنہ لو أكرہ على أن يكتب طلاق امرأتہ فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة ہنا كذا في الخانية، وفي البزازية أكرہ على طلاقہا فكتب فلانة بنت فلان طالق لم يقع اہ۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس