بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اپنے گاہک کو دوسرے دکاندار سے مال دلوانا

سوال

بعض اوقات ہمارےپاس مال نہیں ہوتا، ہم دوسرے دکاندارکوکہتےہیں کہ تم یہ مال ہمارےکسٹمر کودے دو،  رقم ہم تمہیں اداکردیں گے۔  اس صورت میں قبضہ ممکن نہیں ہوتا  لہذاقرآن وحدیث کی روشنی میں راہنمائی فرمادیں۔

جواب

گاہک

ذکرکردہ معاملہ کی درستگی کےلئےضروری ہےکہ گاہک کوسامان فروخت کرنےسے پہلے آپ وہ سامان خرید کر اپنی تحویل میں  لےآئیں یا   اگرتحویل میں لانا مشکل ہوتوخریدنےکےبعدبائع  ہی کےپاس اس کوکسی طریقہ سےعلیحدہ کرواکرمتعین کرلیاجائےکہ یہ مال آپ کا ہے۔اس کےبعد آپ اس مال کوفروخت کرکےبائع کوکہہ سکتےہیں کہ یہ مال فلا ںشخص کوبھیج دیا جائے۔
البحرالرائق،العلامة ابن نجيم المصري(م:970هـ)(5/297)دارالكتاب الإسلامي
وأما شرائط المعقود عليه فأن يكون موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه وأن يكون مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم۔
البحرالرائق،العلامة ابن نجيم المصري(م:970هـ)(5/332)دارالكتاب الإسلامي
وأما ما يصير به قابضا حقيقة ففي التجريد تسليم المبيع أن يخلي بينه وبين المبيع على وجه يتمكن من قبضه بغير حائل، وكذا تسليم الثمن۔
الفتاوى الهندية(3/ 16)دارالفکر
وتسليم المبيع هو أن يخلي بين المبيع وبين المشتري على وجه يتمكن المشتري من قبضه بغير حائل… وأجمعوا على أن التخلية في البيع الجائز تكون قبضا۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس