بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اپنے حقیقی بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا

سوال

نمبر1۔ زید ،عمر ،بکر بیٹے ہیں کلثوم کے اور سلمیٰ بیٹی ہے فاطمہ کی ۔سلمیٰ نے کلثوم کا دودھ پیا عمر کے ساتھ تو سلمیٰ کا نکاح بکر اور زید کے ساتھ ہو سکتا ہے یا نہیں ؟
نمبر2۔دوسری صورت یہ ہے کہ عمر نے فاطمہ کا دودھ پیا سلمیٰ کے ساتھ کیا ابھی سلمیٰ کا نکاح زید اور عمر کے ساتھ ہو سکتا ہے یا نہیں ؟

جواب

پہلی صورت میں نکاح جائز نہیں کیونکہ سلمیٰ نے عمر کی والدہ (کلثوم) کادودھ پیا ہے،اس لیےسلمیٰ کلثوم کی رضاعی بیٹی بن گئی اور کلثوم کے سارے بیٹے سلمیٰ کے رضاعی بھائی بن گئے ہیں۔
دوسری صورت میں سلمیٰ کا عمر کے دیگر بھائیوں سے نکاح درست ہو جائے گا ،کیونکہ عمر نے سلمیٰ کی والدہ(فاطمہ) کا دودھ پیا ہےجس کی وجہ سے سلمیٰ کا صرف عمر کےساتھ رضاعت کارشتہ ثابت ہواہےدیگر بھائیوں سے رضاعت کا رشتہ ثابت نہیں ہوا ۔
سنن أبي داود (1/ 296)مکتبۃ لدھیانوی
عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة
الهداية (2/371)مکتبۃ حبیبیۃ رشیدیۃ
” ويجوز أن يتزوج الرجل بأخت أخيه من الرضاع ” لأنه يجوز أن يتزوج بأخت أخيه من النسب وذلك مثل الأخ من الأب إذا كانت له أخت من أمه جاز لأخيه من أبيه أن يتزوجها ” وكل صبيين اجتمعا على ثدي امرأة واحدة لم يجز لأحدهما أن يتزوج بالأخرى ” هذا هو الأصل لأن أمهما واحدة فهما أخ وأخت.
الدر المختار (3/ 217)سعید
(وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر
فتاویٰ محمودیہ (11/330)دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی، فتاویٰ دارالعلوم کراچی
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس