الله جل جلا لہ عم نوالہ کا قرآن کریم کے بائیسویں پارہ میں ارشادہے” يا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الفُقَرَآءُ اِلَی اللہِ” اور چھبیسویں پارہ میں ارشاد ہے” وَاللهُ الْغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَ اءُ” اللہ رب العزت ساری کائنات جن و انس آسمان،زمین،فرشتے اور ہر چیز کے خالق (پیدا کرنے) والے ہیں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا ہے کہ تم سب اللہ کے فقیر ہو اس سےمعلوم ہوا کہ اللہ کے سوا کسی اور کا فقیر بننا یا بنانا یا کہنا یا کہلوانا جائز نہیں ہے کیوں کہ اللہ نے ہم کو صرف اپنا فقیر بنایا ہے۔ اپنے آپ کو یا کسی اور کو اللہ کے سوا کسی اور کا فقیر کہنا یا بنانا گناہ کبیرہ ہے کیونکہ اللہ تعالٰی اپنی ذات و صفات میں اور افعال و اعمال میں غیور (سب سے زیادہ غیرت مند)ہونے کیوجہ سے کسی کی شرکت گوارہ نہیں فرماتے۔
” حدیث پاک میں ہے کہ حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کا قول نقل فرماتے ہیں “أنا عند ظن عبدی بی إن خيرًا فخيرًا وإن شرًا فشرًا”اس کا مطلب یہ ہے کہ میں بندہ کے ساتھ اس کے گمان جیسا معاملہ کرتا ہوں اگر اچھا گمان کرے گا تو اچھا معاملہ کرونگا اور اگر برا کرے گا تو اس کے مطابق – (حدیث قدسی) الله تعالی ہم کو اپناہی فقیر اور اپناہی محتاج اور اپنی ذات کریمی سےاچھا گمان رکھنے والا بنائے رکھے ۔