بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اپنے آپ كو يا كسی اور كو الله كے علاوه كسی اور كا فقير كہنا يا بنانا

سوال

اپنے آپ كو یا کسی دوسرے شخص کو الله تعالی کے سوا کسی اور کے در کا فقیر کہنا کیسا ہے ؟

جواب

الله جل جلا لہ عم نوالہ کا قرآن کریم کے بائیسویں پارہ میں ارشادہے” يا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الفُقَرَآءُ اِلَی اللہِ” اور چھبیسویں پارہ میں ارشاد ہے” وَاللهُ الْغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَ اءُ” اللہ رب العزت ساری کائنات جن و انس آسمان،زمین،فرشتے اور ہر چیز کے خالق (پیدا کرنے) والے ہیں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا ہے کہ تم سب اللہ کے فقیر ہو اس سےمعلوم ہوا کہ اللہ کے سوا کسی اور کا فقیر بننا یا بنانا یا کہنا یا کہلوانا  جائز نہیں ہے کیوں کہ اللہ نے ہم کو صرف اپنا فقیر بنایا ہے۔ اپنے آپ کو یا کسی اور کو اللہ کے سوا کسی اور کا فقیر کہنا یا بنانا گناہ کبیرہ ہے کیونکہ اللہ تعالٰی اپنی ذات و صفات میں اور افعال و اعمال میں غیور (سب سے زیادہ غیرت مند)ہونے کیوجہ سے کسی کی شرکت گوارہ نہیں فرماتے۔
” حدیث پاک میں ہے کہ حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کا قول نقل فرماتے ہیں “أنا  عند ظن عبدی بی إن خيرًا فخيرًا وإن شرًا  فشرًا”اس کا مطلب یہ ہے کہ میں بندہ کے ساتھ اس کے گمان جیسا معاملہ کرتا ہوں اگر اچھا گمان کرے گا تو اچھا معاملہ کرونگا اور اگر برا کرے گا تو اس کے مطابق – (حدیث قدسی) الله تعالی ہم کو اپناہی فقیر اور اپناہی محتاج اور اپنی ذات کریمی سےاچھا گمان رکھنے والا بنائے رکھے ۔
:مسند أحمد ، أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل الشيباني (م: 241هـ) (15/ 35) مؤسسة الرسالة
عن أبي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: أن الله عز وجل، قال: ” أنا عند ظن عبدي بي، إن ظن بي خيرا فله، وإن ظن شرا فله “۔
:   التفسير المظهري،محمد ثناء اللہ(م:1225)(8/ 50) مكتبة الرشیدية
يا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَراءُ المحتاجون إِلَى اللَّهِ دائما فى الوجود وتوابعه وفى البقاء وفى النجاة من النار والاثابة بالجنة وغير ذلك وتعريف الفقراء نظرا الى افتقار سائر الخلائق بالاضافة الى فقرهم غير معتد به فانه حمل الامانة مع كونه ضعيفا ظلوما جهولا فهو أجوع من غيره وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ اللام للعهد اى المعروف بالاستغناء على الإطلاق والانعام العام على الموجودات الْحَمِيدُ فى نفسه مستحق الحمد من جميع خلقه۔
:تفسير الخازن ،علاء الدين علي بن محمد ،المعروف بالخازن (م: 741هـ) (3/ 455) دار الكتب العلمية
قوله تعالى يا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَراءُ إِلَى اللَّهِ يعني إلى فضله وإحسانه والفقير المحتاج إلى من سواه والخلق كلهم محتاجون إلى الله فهم الفقراء۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس