بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اپنی جائیداد سے خیرات اور بیٹی کی شادی کے لیے وصیت کرنے کا حکم

سوال

ایک والد نے فوت ہوتےوقت اپنی جائیدادمیں ایک مکا ن اور نقد رقم چھوڑی ۔مرحوم نے نقد ی کے بارے وصیت کی کہ اس رقم سے میری بیٹی کی شادی کردی جائے جو رقم باقی بچے اس سے میرے مرنے کے بعد خیرات کی جائے، اس بات کی گواہ وہی بیٹی ہے ۔جس کی اس رقم میں شادی کردی گئی ہے ۔ باقی بچو ں کو اس وصیت کا علم نہیں۔ اور وہی بیٹی کبھی کہتی ہے کہ اس رقم سے خیرات کرنی ہے اورکبھی کہتی ہے کہ اس رقم سے برسی کے موقع پر خیرات کرنی ہے ۔
والد مرحوم کی وصیت کتنی رقم میں پوری کی جا ئے گی؟ اور کیا برسی وغیرہ کے متعلق سے وصیت قابل قبول ہے ؟ مزید یہ کہ مرحوم کی وصیت خیرات سے متعلق ساری جائیداد میں سے پوری کی جا ئے گی یا صرف نقدی میں ؟ اور وہ بھی کتنا حصہ ؟ جبکہ مرحوم کا اشارہ وصیت کے وقت نقدی کی طرف تھا کہ اس میں سے شادی اور بقیہ رقم سے خیرات کی جائے ۔ مسئلہ ہذا کا جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

وصیت کرنا

واضح رہے کہ مرحوم کے انتقال کے وقت اس کی ملکیت میں موجود منقو لہ و غیر منقو لہ حلال مال و جائیدادمیں سے ہر چھوٹی بڑی چیز(مثلا سونا ،چاندی ،زیورات، نقدی ،سامان تجارت وغیرہ ) سب مرحوم کا شرعی ترکہ ہے جس سے چارحقوق بالترتیب متعلق ہوتے ہیں اسی ترتیب کی رعایت سےان کو ادا کرنا ضروری ہے : سب سے پہلے تجہیزوتکفین کے متوسط اخراجات اس ترکے سے نکا لے جائیں بشرطیکہ کسی نے تبرعا ً ادا نہ کئے ہوں ۔پھرقرضوں کی ادائیگی کی جا ئے اگر مرحوم کے ذمہ ہوں ۔پھرجائز وصیت ایک تہائی مال کی حدتک پوری کی جائے ۔اس کے بعد بچا ہوا ترکہ ورثاء میں شرعی حصص کے مطابق تقسیم کیا جائے۔ اس وضاحت کے بعد مذ کورہ صورت میں والد کو بیٹی کی شادی کے لئےوصیت نہیں کرنی چاہئےتھی کیونکہ وارث کے لئے وصیت ناجائز ہے ۔ تاہم فی الحال اگر تمام ورثاء اجازت دیں تو و صیت کا نفاذدرست ہوگا لیکن اگر ورثاء اجازت نہ دیں تو بیٹی کا جو ترکہ میں سے حصہ ہےاس سے اس کی شا دی کے اخراجات پورے کرنے چاہئے۔
نیزمصرف خیرات سےمتعلق ایک تھا ئی مال کے حد تکوہ وصیت پوری کرنی چاہئےجودرست ہواورمیت کے لئے ایصال ثواب کا باعث ہو (مثلا مسجد، مدرسہ دینی جا ئز رفاہی کا م وغیرہ )۔ وہ وصیت پوری کرنا ناجائز ہے جو شرعا نا جائز ہو (مثلا برسی چہلم وغیرہ )۔
سنن تر مذی(۲)۳۲) قدیمی
  إن اللہ أعطی کل ذي حق حقہ فلا  وصیۃ لوا  رث
الفتاوی الھندیۃ(۶/۱۰۹) بیروت
   الترکۃ تتعلق بھا  حقوق أربعة  جھاز المیت    ودفنہ،    والدین  ، والوصیة، والمیراث
مجمع الأنھر (۴/۴۱۸)المنار
ولا تصح بما زاد  علی الثلث ولا لقاتلہ مباشرۃ ولا لوارث إلا بإجازۃالورثة
     الھندیة (۶/۱۰۹)
ولا تجوز بما زاد علی الثلث إلا أن یجیزہ الورثة  بعد موتہ وھم کبار
        ردالمحتار (۳) ۱۷۵)
                                                                                                 ویکرہ اتخاذ الطعام فی الیوم الأول والثالث و بعد الأسبوع  والأعیاد
الفقہ الإسلامی وأدالتہ (۱۰ /۷۴۶۸  رشیدیة
           الوصیت للہ تعالی و لأعمال البر    بدون تعین  جھت تصرف في وجوہ الخیر
فتاوی رحیمہ (۱۰/۲۴۵)دارالاشاعت ، امدادالفتاوی(۹/۵۷۱)
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس