بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اولیاکی رضاءمندی کےبغیر لڑکی کا اپنانکاح خود کرنا

سوال

جب لڑکی بالغ ہوجائےاوراس کےبعدوہ عدالت میں جاکراپنی مرضی کےمطابق نکاح کرلےوالدین اور بھائی کی رضاءمندی کےبغیرتوکیانکاح منعقدہوجائےگایانہیں؟

جواب

لڑکی اپنےاولیاء کی رضامندی کے بغیراگردینداری، مالداری، خاندان وبرادری وغیرہ کے اعتبار سے اپنے ہم پلہ یا ان صفات میں اپنے سے اعلی لڑکے کے ساتھ نکاح کرلے تو وہ شرعاً منعقد ہوجاتاہے ، غیرکفومیں کرے تووہ منعقدنہیں ہوتا،لیکن شریعتِ مطہرہ کی رُوسے پسندیدہ اورمستحب یہ ہے کہ لڑکی اپنا نکاح خود نہ کرےبلکہ اس کےاولیاء اس کی رائے معلوم کرکے اس کانکاح کروادیں
الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088هـ) (3/ 55)سعید
فنفذ نکاح حرة مکلفة بلا رضاولي۔
رد المحتار، ابن عابدين الشامي(م: 1252هـ)(3/ 55)سعید
يستحب للمرأة تفويض أمرها إلى وليها كي لا تنسب إلى الوقاحة۔
بدائع الصنائع ،علاء الدين الكاساني (م: 587هـ)(2/ 317)دار الكتب العلمية
فالنكاح الذي الكفاءة فيه شرط لزومه هو إنكاح المرأة نفسها من غير رضا الأولياء لا يلزم حتى لو زوجت نفسها من غير كفء من غير رضا الأولياء لا يلزم۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس