بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اولاد کے ہو تے ہوئے سو تیلے بھائی اور بھتیجے کو ترکہ میں حصہ نہیں ملتا

سوال

ایک خاتون کا انتقال ہو گیا وفا ت کے وقت اس کے ورثاء میں اس کے بیٹے اور سو تیلےبھا ئی(باپ شریک ) اور بھتیجے و بھتیجیاں موجود تھے۔ کیا بیٹوں کی موجود گی میں سو تیلے بھائی (باپ شریک )اور بھتیجےو بھتیجیاں مرحومہ کے تر کہ میں حصہ دار ہوں گے یا نہیں ۔

جواب

مذکو رہ صورت میں بیٹے چونکہ میت کے قریب ترین رشتہ دار ہیں اس لئے ان کے ہوتے ہوئے شرعًا مرحومہ کے سوتیلے بھائی اور بھتیجے ، بھتیجیاں ترکے میں حصہ دار نہیں ہونگے۔
قال الله  تبارک وتعالی: [النساء:7]
لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُوْنَ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيْبًا مَفْرُوْضًا
الدر المختار،العلامة علاء الدين الحصکفی (م: 1088ھ)(6/ 781)سعید
(ويسقط بنو الأعيان) وهم الإخوة والأخوات لأب وأم بثلاثة (بالابن) وابنه وإن سفل (وبالأب) اتفاقا (وبالجد).۔
فی الفتاوى الہندية، نظام الدين البلخي(6/ 453)دارالفكر
ويسقط بنو الأعيان وہم الإخوة لأبوين بالابن وابنہ وبالأب وفي الجد خلاف، ويسقط بنو العلات وہم الإخوة لأب بہم وبہؤلاء ويسقط بنو الأخياف وہم الإخوة لأم بالولد وولد الابن والأب والجد بالاتفاق۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس