ڈیفنس میں میرا گھر ہے ،اس کا پلاٹ آرمی نے دورانِ ملازمت ائیر فورس میرے نام الاٹ کیا تھا میں تین سال سعودی عرب میں ائیر فورس کی طرف سے ڈیپوٹیشن پر گیاتھا ،اس کا سارا قرض میں نے ادا کیا ابھی تک یہ میرے نام ہے ،یوٹیلیٹی بل بھی میرے نام ہیں ،2014 میں بیو ی کو طلاق دے دی تھی اس نے بڑے بیٹے کے ساتھ مل کر عدالت سے سٹے آرڈر لیا ہو ا ہے ،مجھے گھر سے نکال دیا اور خود قبضہ کر کے اس میں رہ رہے ہیں ،اپر پورشن پر ہائی کورٹ کا فیصلہ میرے حق میں موجود ہے کہ کوئی کسی قسم کا انٹر فئیر نہیں کرے گا ،پھر بھی انہوں نے قبضہ کر رکھا ہے ،تمام بچوں نے میرے سے قطع تعلق کر رکھا ہے ان کا یہ فعل جائز ہے یا ناجائز اس کے متعلق فتویٰ جاری کریں ۔شکریہ
احادیثِ مبارکہ میں دوسروں کی زمین پر ناجائز قبضہ کرنے والے پر سخت وعید وارد ہوئی ہے ،آپ ﷺ نے فرمایا:” جس نے کسی کی ایک بالشت زمین پر قبضہ کیا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے گلے میں سات زمینوں کا طوق ڈالیں گے “؛لہذا سوال میں ذکر کردہ صورت حال اگر واقعہ کے مطابق ہے کہ آپ کے ملکیتی گھر پر قبضہ کر کے آپ کے بیٹوں نے آپ کو گھر سے بے دخل کیا تو ان کا یہ فعل شرعاً حرام اور سخت گناہ ہے بالخصوص آپ کی اولاد اور بیوی کی طرف سے اس طرح کا اقدام نہایت شرمناک اور قابلِ مذمت ہے ،ان سب پر لازم کہ وہ آپ کو اپنے گھر کا قبضہ واپس کریں ،نیز آپ کے بچوں پر لازم ہے کہ وہ آپ سے قطع تعلقی سے باز آئیں اور صلہ رحمی والا معاملہ کریں،باز نہ آنے کی صورت میں سخت گناہ گا ر ہوں گے ۔
صحيح مسلم (3/ 1230) دار إحياء التراث العربي
عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل، أن أروى خاصمته في بعض داره، فقال: دعوها وإياها، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: «من أخذ شبرا من الأرض بغير حقه، طوقه في سبع أرضين يوم القيامة»۔
صحيح البخاري (8/ 21) دار طوق النجاة
عن أنس بن مالك: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا تباغضوا، ولا تحاسدوا، ولا تدابروا، وكونوا عباد الله إخوانا، ولا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال»۔
عمدة القاري (22/ 137) دار إحياء التراث
قوله: (ولا يحل لمسلم) إلى آخره فيه التصريح بحرمة الهجران فوق ثلاثة أيام۔
سنن الترمذي (3/ 374) دار الغرب الإسلامي
عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: رضى الرب في رضى الوالد، وسخط الرب في سخط الوالد۔
صحيح البخاري (4/ 14)
قال عبد الله بن مسعود رضي الله عنه: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت: يا رسول الله، أي العمل أفضل؟ قال: «الصلاة على ميقاتها»، قلت: ثم أي؟ قال: «ثم بر الوالدين»۔
الأدب المفرد بالتعليقات (ص: 305)
عن بكار بن عبد العزيز عن أبيه عن جده عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (كل ذنوب يؤخر الله منها ما شاء إلى يوم القيامة إلا البغي وعقوق الوالدين أو قطيعة الرحم يعجل لصاحبها في الدنيا قبل الموت)۔۔