زیدنےاپنےبھائی عمروکوچندروپےدیکرنفلی صدقہ کاوکیل بنایااوریہ کہاکہ یہ پیسےکسی غریب مسکین کودیدیں، زیدکےبھائی عمرونےاپنےآپ کومستحق سمجھتےہوئےوہ روپےاپنےپاس رکھ لیےدرانحالیکہ زید، عمرو،بکر،خالد چاروں ایک گھرمیں اکھٹےرہتےہیں،ان کاکھانا،پینا،رہناسہنا اجتماعی ہے۔بعدازاں گھرکےکسی اجتماعی کام کےلئےرقم کی ضرورت پڑی توعمرونےاپنےوہ روپےجوزیدنےاسےنفلی صدقہ کےلئےدئیےتھے اُس میں شامل کردیئےاورباقی سب بھائیوں نےبھی اس اجتماعی کام میں حصہ ڈال کرنفع حاصل کیا یاعمرو نے کوئی چیزخریدی اورسب نےاُسےاستعمال کیا۔اب سوال یہ ہےکہ عمروکازیدکےدیئےہوئے پیسوں کواپنےپاس مستحق سمجھ کررکھناکیساہے؟نیزاجتماعی کام میں عمروکااپنی جانب سےاُس رقم کو شامل کرنا کیساہے؟
صورتِ مسئولہ میں زیدنےعمروکواپنی جانب سےاس بات کاوکیل بنایاکہ وہ نفلی صدقہ کی یہ رقم کسی غریب مسکین کودیدے۔ لہٰذاعمروکےلئےاسےاپنےپاس رکھنااورمشترکہ گھریلو اخراجات میں استعمال کرنا جائزنہیں تھا۔ ایسا کرنےسےیہ رقم عمروکےذمّےقرض ہوگئی ہے۔اب اس پرلازم ہےکہ اس قدررقم کسی غریب مسکین کومالک بناکردیدے، البتہ اگروکیل بنانےوالا”صدقہ اداکرنےوالا”کسی کو یوں کہےکہ” یہ رقم جہاں چاہو خرچ کرو یاجسےچاہودو”توایسی صورت میں مستحق وکیل کےلئےاپنےاستعمال میں لانابھی جائزہوتا ہے۔