بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

انفاقِ صدقہ کاوکیل مستحق ہوتو وہ خوداستعمال کرسکتاہےیانہیں ؟

سوال

زیدنےاپنےبھائی عمروکوچندروپےدیکرنفلی صدقہ کاوکیل بنایااوریہ کہاکہ یہ پیسےکسی غریب مسکین کودیدیں، زیدکےبھائی عمرونےاپنےآپ کومستحق سمجھتےہوئےوہ روپےاپنےپاس رکھ لیےدرانحالیکہ زید، عمرو،بکر،خالد چاروں ایک گھرمیں اکھٹےرہتےہیں،ان کاکھانا،پینا،رہناسہنا اجتماعی ہے۔بعدازاں گھرکےکسی اجتماعی کام کےلئےرقم کی ضرورت پڑی توعمرونےاپنےوہ روپےجوزیدنےاسےنفلی صدقہ کےلئےدئیےتھے اُس میں شامل کردیئےاورباقی سب بھائیوں نےبھی اس اجتماعی کام میں حصہ ڈال کرنفع حاصل  کیا یاعمرو نے کوئی چیزخریدی اورسب نےاُسےاستعمال کیا۔اب سوال یہ ہےکہ عمروکازیدکےدیئےہوئے پیسوں کواپنےپاس مستحق سمجھ کررکھناکیساہے؟نیزاجتماعی کام میں عمروکااپنی جانب سےاُس رقم کو شامل کرنا کیساہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں زیدنےعمروکواپنی جانب سےاس بات کاوکیل بنایاکہ وہ نفلی صدقہ کی یہ رقم کسی غریب مسکین کودیدے۔ لہٰذاعمروکےلئےاسےاپنےپاس رکھنااورمشترکہ گھریلو  اخراجات میں استعمال کرنا جائزنہیں تھا۔ ایسا کرنےسےیہ رقم عمروکےذمّےقرض ہوگئی ہے۔اب اس پرلازم ہےکہ اس قدررقم کسی غریب مسکین کومالک بناکردیدے، البتہ اگروکیل بنانےوالا”صدقہ اداکرنےوالا”کسی کو یوں کہےکہ” یہ رقم جہاں چاہو خرچ کرو یاجسےچاہودو”توایسی صورت میں مستحق وکیل کےلئےاپنےاستعمال  میں  لانابھی جائزہوتا ہے۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ)(2/12)رشيدية
وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال: ربها ضعها حيث شئت۔
الجوهرة النيرة،أبو بكر بن علي الحنفي(م:800هـ)(1/115)الخيرية
ويجوز للوكيل بأداء الزكاة أن يدفع لأبيه وزوجته إذا كانوا فقراء كذا في الإيضاح.وفي الفتاوى إذا دفعها إلى ولده الصغير أو الكبير وهم محتاجون جاز ولا يجوز أن يأخذ لنفسه منها شيئا فإن قال له صاحب المال ضعها حيث شئت له أن يأخذ لنفسه۔
 فقه العبادات على المذهب الحنفي، الحاجة نجاح الحلبي(1/146)نجاح الحلبي
ولو دفع زكاة موكله إلى ولده الفقير أو زوجته جاز. ولا يجوز أن يأخذها لنفسه إلا إذا قال الوكيل: ضعها حيث شئت۔
النهر الفائق،سراج الدين عمر بن إبراهيم(م:1005هـ)(1/418)دار الكتب العلمية
فإن وكلوه لم يضمن الوكيل أن يدفع إلى ولده الفقير وزوجته لا إلى نفسه إلا إذا قال ربها: ضعها حيث شئت.وكذا في البحر البحرالرائق،العلامة ابن نجيم المصري(م:970هـ)(2/227)دارالكتاب الإسلامي۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس