بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

انسانی خون کی بیع اور عطیہ کا حکم

سوال

آدمی کا خون دینا کسی دوسرے آدمی کو حلا ل ہے یا حرام؟اور خون کو بیچنا حلال ہے یا حرام ، حلت اور حرمت کی وجہ اگر حرام ہے تو کیا اس آیت سے استدلال کرنا درست ہے ۔آیت : حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیرالخ۔

جواب

انسان کےتمام اجزاء چونکہ قابل تکریم ہیں اس لئےان کافروخت کرناجائزنہیں۔البتہ اگربغیرانسانی خون کےمریض کی موت یا مرض بڑھنے کا اندیشہ ہو اور خون لگائے بغیر صحت مشکل ہو تو مریض کو خون کاعطیہ دیاجاسکتا ہے۔
اور سوال میں ذکرکردہ آیت مبارکہ میں جوخون کوحرام قراردیاگیاہے اس سے دم مسفوح مراد ہے اور حرام ہونے کی وجہ سے اس کی بیع بھی ناجائز ہے۔انسانی خون کی یا انسانی اعضاء کی خریدو فروخت اس کی تکریم کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے۔مذکورہ آیت کریمہ سے اس حوالے سے استدلال بے محل ہے۔
:التفسير المظهري (2/268)رشیدیۃ
فالظاهر ان القصّة عند نزول اية التحريم فى الانعام قل لا أجد فيما اوحى الى والله اعلم وَالدَّمُ اى المسفوح منه بالإجماع وهو السائل وكان اهل الجاهلية يصيونها فى الأمعاء ويشربونها۔
:المحيط البرهاني في الفقه النعماني (5/ 373)دارالکتب العلمیۃ
فإن الاستشفاء بالمحرم إنما لا يجوز إذا لم يعلم أن فيه شفاءً؛ أما إذا علم أن فيه شفاء، وليس له دواء آخر غيره فيجوز الاستشفاء به۔
:الفتاوى الهندية (5/ 354)دارالفکر
الانتفاع بأجزاء الآدمي لم يجز قيل للنجاسة وقيل للكرامة هو الصحيح كذا في جواهر الأخلاطي۔
:الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 58)دارالفکر
والآدمي مكرم شرعا وإن كان كافرا فإيراد العقد عليه وابتذاله به وإلحاقه بالجمادات إذلال له. اهـ أي وهو غير جائز وبعضه في حكمه وصرح في فتح القدير ببطلانه ۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس