صورت ِمسئلہ یہ ہےکہ مدرسہ کےایک ذمہ دارنےمدرسہ کےکھربائی کومدرسہ کےلئے سامان لانےکیلئےکچھ پیسےدیے۔ اب ان روپوں کاکچھ اتا پتہ نہیں ہےاور نہ ہی وہ کام ہوا جس کےلئے روپے دیے تھے اگر چہ وہ شخص متعین ہےمگراس کاکہنایہ ہےکہ مجھےاس کےحوالےسے کچھ علم نہیں کہ وہ کہاں ہیں؟ اب پوچھنا یہ ہےکہ ان روپوں کا ضمان کس پر ہوگا، کھربائی پریامنتظم مدرسہ پر ؟
:الفتاوى الهندية (4/ 342 )ط: دار الفكر
ولو قال: لا أدري أضاعت أو لم تضع، لا يضمن، ولو قال: لا أدري أضعتها أو لم أضع يضمن… ولو قال: نسيت ولا أدري في أي حانوت وضعت، يكون ضامنا، كذا في فتاوى قاضي خان۔
:دررالحکام شرح مجلۃالاحکام ،الشیخ علی حیدر(2/266)المکتبۃ العربیۃ
الودیعة أمانة بیدالمستودع بناءًعلیه إذاهلکت أوفقدت بدون صنع المستودع وتعدیه وتقصیره فی الحفظ لا یلزم الضمان۔
:الفتاوی البزازیۃ علی ھامش الھندیۃ(6/200)رشيدیة
ولوقال:وضعتهابین یدی،وقمت نسیتها فضاعت یضمن۔