بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

امتحان فیس یا دیگر ضروریات کیلئے لیے گئےفنڈ سے بچ جانے والی رقم کا حکم

سوال

اکثر پرائیویٹ عصری اداروں میں سالانہ فنڈ لیا جاتا ہے اس وضاحت کے ساتھ کہ یہ آپ کے بچوں پر ہی خرچ ہوگا جس میں ماہانہ ٹیسٹ و دیگر ضروریات شامل ہوتی ہیں ۔ایک دو ماہ بعد اگر طالب علم ادارہ سے جانا چاہے تو مذکورہ رقم کی واپسی کے مطالبے پر رقم لوٹانا ضروری ہے ۔ داخلہ کے وقت یہ شرط بھی لگائی جاتی ہے کہ یہ رقم ناقابل واپسی ہوگی۔

جواب

مذکورہ صورت میں جو پیشگی فنڈ لینے کا ذکر ہے ،ادارے کے لیے اس میں سے بقدر خرچ رکھنا جائز ہے ۔ بقیہ فنڈ واپس کرنا ضروری ہے اور نا قابلِ واپسی کی شرط لگانا درست نہیں ۔
مشکوٰۃ المصابیح (1/255)
“وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌ألا لا ‌تظلموا ‌ألا ‌لا يحل مال امرئ ‌إلا بطيب نفس منه. رواه البيهقي في شعب الإيمان
مجلة الأحكام العدلية (ص: 27)
(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه
(المادة 97) : لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 96)
لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس