اکثر پرائیویٹ عصری اداروں میں سالانہ فنڈ لیا جاتا ہے اس وضاحت کے ساتھ کہ یہ آپ کے بچوں پر ہی خرچ ہوگا جس میں ماہانہ ٹیسٹ و دیگر ضروریات شامل ہوتی ہیں ۔ایک دو ماہ بعد اگر طالب علم ادارہ سے جانا چاہے تو مذکورہ رقم کی واپسی کے مطالبے پر رقم لوٹانا ضروری ہے ۔ داخلہ کے وقت یہ شرط بھی لگائی جاتی ہے کہ یہ رقم ناقابل واپسی ہوگی۔
مشکوٰۃ المصابیح (1/255)
“وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا لا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه. رواه البيهقي في شعب الإيمان
مجلة الأحكام العدلية (ص: 27)
(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه
(المادة 97) : لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 96)
لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار