بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

امتحانی فیس سےبچ جانےوالی رقم ادارےکے دوسرےمصرف میں استعمال کرنا

سوال

ہمارے یہاں امتحان کے وقت بطور فیس کچھ رقم لی جاتی ہے جو عام طورپر امتحان کے کاموں میں صرف ہوتی ہے کبھی ایسا ہوتاہے کہ کچھ رقم باقی رہ جاتی ہے میرا سوال یہ ہے کہ اس بقیہ رقم کا کیا کیا جائے۔

جواب

امتحانی فیس کا مصرف

واضح رہے کہ امتحانی فیس امتحان کے اخراجات کے بقدر ہی مقرر کرنی چاہئے، امتحان کے اخراجات سے زیادہ فیس مقرر کر کے اسے کمائی کا ذریعہ بنانا مناسب نہیں۔ تاہم امتحانی کاموں سے بچ جانے والی رقم ضابطہ کے مطابق ادارہ کی دیگر ضروریات میں خرچ کر سکتے ہیں۔
الجامع الصحيح سنن الترمذي (3/ 263) وزارة الأوقاف السعودية
[ 1352 ] حدثنا الحسن بن علي الخلال حدثنا أبو عامر العقدي حدثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال الصلح جائز بين المسلمين إلا صلحا حرم حلالا أو أحل حراما والمسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما
الفتاوى الهندية (4/ 516)العلمية
والأصل أن الإجارة إذا وقعت على عمل فكل ما كان من توابع ذلك العمل ولم يشترط على الأجير في الإجارة فالمرجع فيه إلى العرف
الموسوعة الفقهيۃ الكويتيۃ(258/1)کوئتہ
ويشترط في العاقدين للصحة أن يقع بينهما عن تراض، فإذا وقع العقد مشوبا بإكراه فإنه يفسد. كما يشترط الشافعية والحنابلة ومن معهم للصحة ولاية إنشاء العقد، فعقد الفضولي يعتبر عندهم فاسدا
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس