مسجد اور اس کے وضو خانہ کی صفائی کرنا بلا شبہ نیکی کا کام ہے اور باعث اجر وثواب ہے اس لیے اگر امام صاحب از خود مسجد کی صفائی کریں تواس میں کوئی حرج نہیں ۔ البتہ معاوضہ پر یہ عمل کرنا منصبِ امامت کے شایان شان نہیں، اس لیے اجرت پران سے یہ کام نہیں کروانا چاہیئے۔ اور ان کو امامت پراتنا کم معاوضہ دینا کہ معاوضہ پر مسجد کی صفائی کرنے پر مجبور ہوجائیں ہرگز مناسب رویہ نہیں۔
سنن ابن ماجہ (55)قدیمی
عن ابی سعید الخدری قال قال رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم من اخرج اذى من المسجد بنى الله له بیتا فی الجنة. عن عائشہ رضی اللہ عنها قالت امر رسول الله صلی الله علیہ و سلم ان تتخد المساجد فى الدور وان تطھر وتطیب۔
بدائع المصانع(5/570)علمیة
ويجوز الاستجار لنقل الميتات والجيف والنجاسات. لان فيه رفع أذيتها عن الناس فلو لم تجز تتضرر بھا الناس۔
بدائع الصنائع (5/575)علمیة
وأما في الأجبر الخاص فلا یشترط بیان جنس المعمول فیہ و نوعہ و قدرہ و صفتہ وانما بشرط بیان المدۃ فقط۔