بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اقالہ کے بعد مبیع کا کرایہ لینا

سوال

میں نے ایک گاڑی فروخت کی 20 لاکھ میں ۔ خریدار نے نقد رقم کچھ بھی نہیں دی بلکہ کہا کہ دوماہ کےبعدپانچ لاکھ روپے دوں گا اور باقی ہر مہینے کے تیس ہزار دوں گا ۔ خریدار نے دو تین ماہ گزرنے کےبعد بھی پیسے نہیں دیے اب وہاں کے مقامی ایک ٹرانسپورٹر نے اور مولانا نصیب اللہ صاحب (مقامی خطیب ) نے یہ فیصلہ کیا کہ تم گاڑی واپس لے لو کیوں کہ یہ شخص تمہیں رقم ادا نہیں کررہا اور آئے روز کا مطالبہ اور قضیہ اچھا نہیں ہے۔
        جبکہ خریدار غریب آدمی بھی نہیں بلکہ کروڑوں کا مالک ہے۔ چنانچہ خریدار نے بخوشی گاڑی واپس کردی جب گاڑی واپس ہوئی تو اس خریدار نے ایک سو گیا رہ دن میری گاڑی استعمال کی جو کہ شہزور لوڈر گاڑی تھی اور اس پر اس نے اپنے کاروبار کو بھی آگے بڑھایا فرنیچر وغیرہ لاتا تھا اور رینٹ پر بھی وہ گاڑی دیتا تھا گاڑی میں تقریبا ً ایک لاکھ چوراسی ہزار کا کام بھی واپسی پر کروانا پڑا پھروہ گاڑی دوسری جگہ پر 15 لاکھ 60 ہزار کی فروخت کی ۔ اب طے یہ ہوا کہ ایک سو گیارہ دن کا دو ہزار یومیہ کےحساب سے دو لاکھ 22 ہزار روپے مجھے وہ گاڑی کا کرایہ دےگا کیونکہ اس نے گاڑی استعمال کی تھی اور ساتھ گاڑی بھی واپس دےگا۔ ٹرانسپوٹر بھائی نے کہا کہ تم اس کو 12 ہزار چھوڑدو باقی 210000لے لو ۔ چنانچہ وہ رقم کچھ سامان کی شکل میں اور تھوڑے سے نقدی صورت میں وصول ہوگئے۔
                                                اب پوچھنا یہ ہے کہ وہ پیسے لینا میرے لیےجائز ہیں کہ نہیں ۔ اگر جواب مثبت میں ہے پھر تو ٹھیک۔اگر منفی میں ہے تو اس نے جو (111) دن میری گاڑی استعمال کی اس کے نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا۔ اب جب کہ ہمارے درمیان فیصلہ ہوچکا ادائیگی ہوچکی پھر وہ لوگوں سے کہتاہے کہ اس نے مجھ سے سود لیا ۔آیا اس  میں کوئی سود کی صورت بنتی ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں جب آپ   کا خریدار کے ساتھ سودا ہوگیا  اور آپ نے گاڑی اس کے قبضے میں بھی دے دی   تو وہ گاڑی خریدار کی ملکیت میں چلی گئی  ۔اگرچہ اس نے ثمن ادا نہ کیا ہو ۔لہذا مذکورہ گاڑی پر خریدار نے جتنے دن کاروبار کیا   وہ اس  نے اپنی ملکیت میں موجود گاڑی پر کیا ۔لہذا آپ کیلئے ان دِنوں کا کرایہ لینا شرعاً جائز نہیں  ۔
 اور دورانِ استعمال گاڑی کا جو نقصان کیا گیا سودا  فسخ ہونے کے بعد   آپ کے لیے خریدار سے نقصان کے بَقدر  رقم لینا جائز ہے ۔
تبیین الحقائق(4/276) دارالکتب العلمیة
ویلزم بایجاب و قبول)۔۔۔۔ولنا ان العقدتم من الجانبین  ودخل المبیع فی ملک المشتری
شرح المجلۃ(1/71) رشیدیة
وکذا لو دفع الاقل کان للمشتری ان یرجع علیه بما بقی من الثمن الاول الا اذا کان المبیع تعیب عند المشتری قبل الاقالة فتصح    حینئذ باقل من الثمن الاول اذا کان النقصان بقدر العیب۔ واما اذاکان ازید او انقص فانہ ینقص بقدر العیب ویرجع بالباقی علی ما استظھرہ فی رد المحتار
البحر الرائق(6/ 173) رشیدیة
(بلا تعیب)اذ لو تعیب بعدہ جاز اشتراط الاقل ویجعل الحط بازاء ما فات بالعیب ولا بد ان یکون النقصان بقدر حصة الفائت ،ولا یجوز ان ینقص من الثمن اکثر منه کذا فی فتح القدیر۔
البحر الرائق (6/ 175) رشیدیة
قید بالھلاک لانہ باع صابوناً رطباً ثم تقایلا بعد ما جف فنقص وزنه لا یجب علی المشتری شیئ لان کل المبیع باق
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس