نمبر۱۔ کیا اسٹیٹ لائف انشورنش یا کسی اور انشورنش کمپنی کے ذریعے لائف انشورنش کروانی جائز ہے۔ حالانکہ وہ ایک مقررہ وقت کے بعد ۶ گناہ منافع دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔
نمبر۲۔ میں جس جگہ ہوں وہ بزرگ(صوفی برکت علی لدھیانوی، دلوال سمندری روڈ فیصل آباد) اس دنیا سے ۱۹۹۷ کو کوچ کرگئے تھے۔ اب وہاں انکی وصیت کے مطابق کوئی گدی نشین نہیں ہے۔ جو وہاں بیعت ہونے جاتا ہے وہاں پر رجسٹر کے اورپر اس کا نام لکھ لیتے ہیں اور وہ صوفی صاحب کا مرید ہوجاتا ہے۔ کیونکہ انکی حیات میں بھی اسی طرح لوگ بیعت ہوتے تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ بڑے کامل بزرگ تھے۔ انہوں نے مقالات حکمت، حدیثوں کا مجموعہ ترتیب شریف، جیسی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ اور آپ توکل الی اللہ کے عملی نمونہ تھے۔ اور ہر طرح کے غیر شرعی کاموں سے مریدوں کو منع کیا۔
نمبر۱۔ اسٹیٹ لائف انشورنس یا کسی اور کمپنی کے ساتھ لائف انشورنس کا معاہدہ کرنا جوئے اور سود پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔
نمبر۲۔بیعت کا اصل مقصد اصلاح نفس ہے جو کسی شیخ کامل کی صحبت میں رہ کر ہی حاصل ہوسکتی ہے ۔ انتقال کے بعد کسی بزرگ سے بیعت ہونا ممکن نہیں ہے ۔لہٰذا دوسرے شیخ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
قال اللہ تعالی
يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ [المائدة: 90]
بدائع الصنائع (7/46)بیروت
الربوٰ حرام بنفس الکتاب الکریم ،قال اللہ عزوجل ،وحرم الربوا۔
اعلاء السنن کتاب الادب والتصوف والاحسان (17/8828) درالفکر
وبالجملۃ فالتصوف عمارۃ الظاہر والباطن اما عمارۃ الظاہر فبالاعمال الصالحۃ واما عمارۃ الباطن فبذکر اللہ وترک الرکون الی ما سواہ ۔۔۔وکان تیسیر ذلک لمجرد الصحبۃ ،کما کان یتسیر لہم علم الکتاب والسنۃ بذلک ایضاً من غیر احتیاج الی الکتب والعلوم المدونۃ فیہا ۔ ثم لما تغیرت الاحوال مست الحاجۃ الی کتابۃ العلوم وتدوینہا ۔۔۔ وکذلک الصوفیۃ لما روا تغیر احوال القوم مہدوا لعمارۃ الظاہر والباطن مجاہدات وخلوات ، واقاموا لہا الخوانق والزویا والرباطات۔