بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

استبدال وقف کا حکم

سوال

مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا ایک وراثتی مکان تھا۔ ہم ورثا میں باہمی مشورہ ہوا اس مکان کو ایک دینی ادارہ جامعہ احسان القران کو وقف للہ کرنے کا۔ چنانچہ وقف کیا گیا اور وقف نامہ کی تحریر مرتب کر لی گئی۔ وارثان میں سے دو بھائیوں کی مالی پوزیشن کمزور تھی۔ چنانچہ طے یہ پایا کہ اس مکان کی مالیت لگوا کر ایک حصہ مدرسہ خرید کر اس کی قیمت ایک وارث کو دے دیں اور دوسرے وارث کو بقیہ بھائی(وارثان)مل کر رقم ادا کر دیں گے۔ اور یہ مکان اس ادارہ کے تصرف میں ا ٓجائے گا چنانچہ مالکان کی طرف سے یہ مکان مدرسہ کے لیے وقف کر کے باقاعدہ وقف نامہ لکھ دیا گیا اور وقف نامہ میں واقفین کی طرف سے یہ وضاحت بھی کی گئی کہ اس مکان کو بوقت ضرورت مدرسہ کی انتظامیہ فروخت کر کے مدرسے کے استعمال میں لا سکتی ہے۔اس کے بعد مدرسہ نے اپنے اس حصے کی قیمت کا دو تہائی ادا کر دیا اور بقیہ کی ادائیگی اس کے کاغذات کی تکمیل تک موقوف کر دی گئی۔
اس دوران کچھ احوال ایسے پیش آئے کہ وہاں مدرسہ، تعلیمی کام ناممکن ہو گیا تو طے پایا کہ مدرسہ کے اساتذہ کی رہائشوں کے لیے استعمال شروع کر دیا جائے کہ یہ بھی ادارہ ہی کی ضرورت ہے۔ بعدہ اس مکان کو فروخت کر دیا گیا اور فروختگی کے بعد بعض واقفین حضرات اس کی رقم میں سے دیگر اداروں میں دینا چاہتے ہیں۔ یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ یہ معاملہ طے ہو جانے کے بعد اس مقام پر مدرسہ کا قبضہ رہا، اور مدرسہ کی ضروریات کے لیے استعمال ہوتا رہا۔ اور اب بھی مدرسہ کے اساتذہ کی رہائشیں ہیں۔ بجلی گیس وغیرہ کے بل مدرسہ ہی ادا کر رہا ہے اور تعمیر و مرمت دیگر ضروریات پر مدرسہ ہی اخراجات کر رہا ہے۔
اس صورتحال کے تناظر میں ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ
نمبر۱۔ اس مکان کی رقم صرف اسی ادارے میں استعمال ہوگی جس نے حصہ خرید لیا تھا اور ابتدا ءً یہ مکان اس ادارے پر اعتماد کرتے ہوئے دے دیا گیا تھا.
نمبر۲۔ یا یہ رقم دیگر اداروں میں بھی دی جا سکتی ہے۔
نمبر۳۔ اس رقم میں سے ہم کچھ رقم متعین مدت تک اپنے ذاتی کاروبار یا مصرف میں استعمال کر سکتے ہیں کہ بعد میں وہ مقدار رقم واپس ادارے کو لوٹا دیں گے۔
نمبر۴۔ اگر کوئی متعین مقدار رقم کی شریعت اجازت دیتی ہے تو کم از کم اور زیادہ سے زیادہ مدت کے بارے میں بھی رہنمائی فرمائی جائے۔
نمبر۵۔ نیز اس بات کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ جس ادارے کو یہ مکان وقف کیا گیا تھا وہ ادارہ والے اس کی قیمت اور رقم سے مدرسے کے سامنے مدرسے کے لیے زمین ہی خریدنا چاہتے ہیں تو اس صورت میں کیا حکم ہے ؟

جواب

وقف کے بارے میں شریعت کا اصول ہے کہ جو جگہ وقف کر دی جائے وہ واقف کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اور جس ادارہ کو وقف کی جائے اس کی ملکیت ہو جاتی ہے ۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ آپ نے ادارہ کو مکا ن وقف کر کے اس کے قبضے میں بھی دے دیا تو اب وہ آپ کی ملکیت سے نکل کر ادارہ کی ملکیت میں چلا گیا اور ادارہ نے اس میں اخراجات (گیس ،بجلی کے بل اور مرمت وغیرہ کے کام) بھی کیے ،نیز وقف نامہ میں اس بات کی تصریح ہے کہ کسی مجبوری کی بنا پر ادارہ اس موقوفہ مکان کو فروخت کر کے دوسری جگہ لے سکتا ہے، لہذا اب سوال میں ذکر کردہ تحریر کے پیشِ نظر اس مکان کو فروخت کر دیا گیا ہے ،تو اس کی فروختگی سے حاصل ہونے والی آمدن اسی ادارہ کی ملکیت ہے ۔
اور اس تناظر میں آپ کے سوالات کے جوابات حسب ذیل ہیں
نمبر۱۔ چونکہ وقف کرتے وقت آپ نے صراحتاً “جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ” کو مکان وقف کیا تھا اور شرائط کے مطابق آپ نے بوجہ مجبوری اس مکان کو فروخت کیا ، تو اب اس فروختگی سے حاصل ہونے والی رقم ادارہ ہی کی ملکیت ہے اور اس رقم سے ادارہ دوسری جگہ پلاٹ خریدنے کا پابند ہے ، لہذا واقف اور انتظامیہ کےلیے مذکورہ رقم پلاٹ کے علاوہ کسی دوسرے مصرف (اساتذہ کی تنخواہوں ،کھانے پینے کے اخراجات وغیرہ ) میں استعمال کرنا ہرگز جائز نہیں ۔
نمبر۲۔فروختگی سے حاصل ہونے والی آمدن کسی دوسرے ادارہ میں دینا قطعاً جائز نہیں ۔
نمبر۳،۴۔ وقف کرنے سے واقف کی ملکیت ختم ہوگئی تو اب واقف کا پلاٹ کی رقم اپنے ذاتی کاروبار میں لگانا ہرگز جائز نہیں ،خواہ رقم تھوڑی ہو یا زیا دہ، کیونکہ اب یہ رقم متولی کے ہاتھ میں امانت ہے اور اس رقم کو آگے قرض پر دینا خیانت ہے نیز قرض دینے کی صورت میں متولی ضامن ہوگا ۔
نمبر۵۔ ادارہ مذکورہ مکان کے بدلے چونکہ مدرسہ کےلیے پلاٹ / زمین ہی خرید رہا ہے اور شرعاً لازم بھی یہی ہے کہ شرائط کے مطابق مدرسہ کےلیے زمین ہی خریدے،لہذا کسی دوسرے مصرف میں استعمال کرکے متولی خیانت کا مرتکب ہوگا۔
   سنن الترمذي ،(ابواب الاحکام باب ما ذكر عن رسول الله ﷺفي الصلح بين الناس)
 عن النبي ﷺ۔۔۔والمسلمون على شروطهم، إلا شرطا حرم حلالا، أو أحل حراما»: هذا حديث حسن صحيح۔
الفتاوى التاتارخانية(8/172)فاروقية
وفي مجموع النوازل: سئل شيخ الإسلام أبو الحسن عن رجل قال: وقفت داري على مسجد كذا،  ولم يزد على هذا،  وسلمها إلى المتولي صح، …  قال وعلى هذا يكون تمليكا للمسجد  وهبة فيتم بالقبض،  وإثبات الملك للمسجد يصح على هذا الوجه۔
رد المحتار (4/ 400) دار الفكر
شرط الواقف كنص الشارح۔
الدر المختار (4/384) دار الفكر
(و) جاز (شرط الاستبدال به) أرضا أخرى حينئذ (أو) شرط (بيعه ويشتري بثمنه أرضا أخرى إذا شاء…)۔
رد المحتار(4/ 384)
مطلب في استبدال الوقف وشروطه (قوله: وجاز شرط الاستبدال به إلخ) اعلم أن الاستبدال على ثلاثة وجوه: الأول: أن يشرطه الواقف لنفسه أو لغيره أو لنفسه وغيره، فالاستبدال فيه جائز على الصحيح وقيل اتفاقا. والثاني: أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا، أو لا يفي بمؤنته فهو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه.۔۔۔ قال في البحر: ولو شرط أن يبيعها، ويشتري بثمنها أرضا أخرى، ولم يزد صح استحسانا وصارت الثانية وقفا بشرائط الأولى ولا يحتاج إلى الإيقاف كالعبد الموصى بخدمته۔
رد المحتار(4/ 445)
 مراعاة غرض الواقفين واجبة۔
البحر الرائق (5/ 232) دار الكتاب الإسلامي
وفي الخانية لو جعل حجرته لدهن سراج المسجد ولم يزد صارت وقفا على المسجد إذا سلمها إلى المتولي وعليه الفتوى وليس للمتولي أن يصرف الغلة إلى غير الدهن اهـ. فعلى هذا الموقوف على إمام المسجد لا يصرف لغيره۔
البحر الرائق (5/ 259)دار الكتاب الاسلامي
أن القيم ليس له إقراض مال المسجد قال في جامع الفصولين ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن وكذا المستقرض۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس