بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اراضی شاملات پر مسجد بنانے کا حکم

سوال

مسئلہ یہ ہے کہ 1992ء میں رتی ڈھیری کے مقام پر ہماری زمین کے درمیان موجود شاملات پر ہم نے مسجد بنانے کی اجازت دی ۔ یہ جگہ ہماری ملکیت کے درمیان موجود ہے اورہمارے قبضہ میں ہے ۔1992 ءکے بندوبست میں چند لوگوں کے خفیہ طریقے سے مسجد کےلئے تین کنال جگہ کا نقشہ لگوایا جو ہمارے علم میں نہیں تھا ۔ ہم نے 2012ء میں اس کے خلاف درخواست دےکر 15 مرلہ جگہ مسجد کےلئے مختص کی اور باقی مالکان کے نام کروادی۔ مخالف فریق نےعدالت جاکر یہ دعوی کیا کہ وہ اس مسجد کا متولی ہے اور بندوبست میں مختص جگہ تین کنال کا انتقال بحال کیا جائے، متولی کی زمین بھی اس خالصہ شاملات کے ملحقہ نہیں ہے ۔ شرعی اعتبار سے اس متولی کی حیثیت کیاہے؟

جواب

صورت مسئولہ کے جواب سے پہلے اراضی شاملات کے حکم شرعی سے متعلق وضاحت ضروری ہے ۔واضح رہے کہ اراضی شاملات حقیقتاً کسی شخص کی ذاتی ملکیت نہیں ہوسکتی بلکہ یہ زمین سرکار کے زیر تصرف ہوتی ہیں البتہ اہل علاقہ کو ان سے صرف استفادہ کا حق حاصل ہوتاہے شرعاً کوئی شخص بھی شاملات کی زمین میں مالکانہ تصرف کا حقدار نہیں ہے۔
اس تمہید کے بعد صورت مسئولہ کا حکم شرعی یہ ہے کہ جب بندوبست میں مذکورہ تین کنال زمین باقاعدہ محکمانہ کاروائی کے تحت مسجد کیلئے متعین کردی گئی ہے تو شرعاً بھی یہ جگہ مسجد کیلئے متعین قرار پاگئی ہے کیونکہ سرکار کوا ن اراضی میں تصرف کا اختیار حاصل ہے۔ البتہ سرکار کی طرف سے اس تعین کو شرعاً وقف قرار نہیں دیا جائےگا۔ کیونکہ وقف کیلئے واقف کا ارض ِ موقوفہ کا مالک ہونا ضروری ہے اس کیلئے فقہاء کرام نے بیت المال کی اراضی کو سرکار کی طرف سےوقف کرنے کو “ارصاد “سے تعبیر کیا ہے یعنی کچھ زمین کو کسی مخصوص کام کیلئے متعین کرنا اور “ارصاد” کا حکم بھی وقف کی طرح ہے کہ مذکورہ اراضی اس متعینہ کام کیلئے استعمال ہوگی ۔
لہذا صورت مسئولہ میں جو اراضی مسجد کیلئے متعین ہوچکی ہے وہ مسجد کیلئے استعمال کرنا لازم ہوگا ، اور بلا عذر لوگوں کا اس کے خلاف کاروائی کرنا درست نہیں ،البتہ اگر مسجد کیلئے اس قدر زمین کی ضرورت نہیں ہے اور اس تعین سے اہل علاقہ کو کوئی واقعی نقصان پہنچ رہاہے مثلا ً کسی کا راستہ رک رہا ہے یا پانی کے حصول میں تنگی ہے اور عوام علاقہ کے حقوق ضائع ہورہے ہیں تو ایسی صورت میں متعلقہ محکمہ کے سامنے تمام صورتحال رکھ کر مسجد کیلئے مذکورہ رقبہ کی مقدار کو کم کروانے کی درخواست کی جاسکتی ہے ۔
لہذا فریقین پر لازم ہے کہ فتنہ اور انتشار سے بچتے ہوئے تمام حقائق کو پیش نظر رکھ کر مجاز اتھارٹی اور مستند اہل علم کو معاملہ میں شامل کرکے اس قضیہ کو خوش اسلوبی سے حل کرلیں اور کوئی فریق اسے اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائے۔ نیز مذکورہ صور ت میں کسی شخص کیلئے خود سے اس متعینہ جگہ کا متولی ہونے کا دعویٰ درست نہیں بلکہ مسجد کی مصلحت اور عوام علاقہ کی مشاورت سے کسی غیر متنازع اہل شخص کو متولی بنایا جاسکتاہے۔
رد المحتار (4/ 340) سعيد
(قوله: وشرطه شرط سائر التبرعات) أفاد أن الواقف لا بد أن يكون مالكه وقت الوقف ملكا باتا۔
رد المحتار (4/ 421)سعيد
مطلب ولاية نصب القيم إلى الواقف ثم لوصيه ثم للقاضي(قوله: ولاية نصب القيم إلى الواقف) قال في البحر قدمنا أن الولاية للواقف ثابتة مدة حياته وإن لم يشترطها۔

اسلام کا نظام اراضی مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ ص 32 ط: دارالاشاعت کراچی

عدالتی فیصلے جلد دوم مفتی تقی عثمانی صاحب (2/283) ادارہ اسلامیات لاہور کراچی

اسلام کا نظام ِ اوقاف ص: 217 ط: ادارہ اسلامیات لاہور کراچی

خیر الفتاویٰ جلد 6 صفحہ 322 ط: امدادیہ ملتان

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس