بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ادارے کے وکیل کا قربانی کے جانور میں اپنے لیے نفع رکھنا

سوال

ایک عالم کسی ادارے میں وکیل کی حیثیت سے ہر سال قربانی کے جانور خریدتے ہیں ،وہ جانور خرید کر نفع کمائیں تو یہ نفع کمانا کیسا ہے ؟

جواب

خریدار ادارے کی طرف سے امین ہے ،اس لیے اس کے لیے نفع کمانا جائز نہیں ،البتہ خریدار جانور خریدنے پر طے کردہ اجرت ادارے سے وصول کرے تو اس کو اجازت ہے۔
شرح المجلة،کتاب الوکالة  المادة(1463) كوئته
المال الذی قبضہ الوکیل بالبیع والشراء وايفاء الدين واستيفاءه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده۔
الفقه الاسلامي وادلته (4/2997)كوئته
تصح الوكالة بأجر، وبغير أجر، لأن النبي صلّى الله عليه وسلم كان يبعث عماله لقبض الصدقات، ويجعل لهم عمولة. فإذا تمت الوكالة بأجر، لزم العقد، ويكون للوكيل حكم الأجير۔
الدرالمختار (5/527)سعيد
قلت: وظاهر الأشباه أن الوكيل بالأجر يجبر فتدبر۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس