بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

آسان کاروبار سکیم کے تحت حکومت سے قرض لینا

سوال

حکومت (آسان کاروبار) سکیم کے تحت عوام کو بغیر سود کے قرض دے رہی ہے کیا یہ قرض لینا صحیح ہیں؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ سکیم کی جو تفصیلات ہمارے سامنے آئی ہیں ان میں سے کچھ شرائط واضح نہیں ہیں مثلاً ادائیگی میں تاخیر کے حوالے سے یہ اصول لکھاگیا ہے کہ وقت پر ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں بنک کی پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔ بنک کی اس حوالے سے پالیسی کیا ہوگی یہ واضح نہیں ہے اور عموماً کنونشل بنکوں میں اس حوالے سے جو پالیسی رائج ہے وہ غیر شرعی ہے، اس لئے فی الحال مذکورہ سکیم کے تحت قرض لینے سے اجتناب ضروری ہے۔
قال الله تعالى: [البقرة: 275]
{ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا}
 المعیار الشرعی(  رقم: 19)القرض
4۔أحكام المنفعة المشروطة في القرض
١/٤ :يحرم اشتراط زيادة في القرض للمقرض وهي ربا، سواء أكانت الزيادة في الصفة أم في القدر، وسواء أكانت الزيادة عينا أم منفعة، وسواء أكان اشتراط الزيادة في العقد أم عند تأجيل الوفاء أم خلال الأجل، وسواء أكان الشرط منصوصا عليه أم ملحوظا بالعرف
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس