بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

آبادی سے دور موجود زمینوں کو قومی اتفاق رائے سے تقسیم کرنا

سوال

ہمارے ہاں بہت ساری زمینیں قومی اعتبار سے مشترک ہیں جو قومی مشترکہ ضرورتوں میں صدیوں سے استعمال ہوتی آرہی ہیں۔ اب قومی اتفاقِ رائے سے ان کی تقسیم کا فیصلہ ہو چکا ہے۔قوم میں بہت سارے ایسے لوگ بھی ہے جو عرصہ سے علاقہ چھوڑ چکے ہیں اور اپنی ذاتی جائیداد بھی بیچ چکے ہیں اور اہل علاقے میں سے کسی کے غمی خوشی میں بھی شریک نہیں ہوتے۔ اب قومی مشران یہ پوچھ رہے ہیں ایسے لوگوں کو بھی قومی تقسیم میں حصہ دیا جائے گا یا نہیں۔ جبکہ مذکورہ مشترکہ زمینوں کےلئے عرصہ سے علاقہ میں موجود لوگ جانی ومالی قربانی دے چکے ہیں۔ شریعت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔
:تنقیح
نمبر۱۔مذکورہ مشترکہ زمینیں کس قسم کی زمین ہے؟ شاملات کی زمین ہے یا آبادی سے دور واقع جنگلات یا بنجر زمین ہے؟
نمبر۲۔اس حوالے سے حکومت کا مذکورہ زمین میں کوئی عمل دخل ہے یا نہیں؟ اور حکومت کی طرف سے اسے تقسیم کرنے کی اجازت ہے یا نہیں؟
نمبر۳۔ سوال میں جو ” جانی ومالی قربانی” کا تذکرہ کیا گیا ہے اس سے کیا مراد ہے؟
:جواب ِتنقیح
نمبر۱۔ جی یہ زمینیں آبادی سے کافی دور ہیں، البتہ اس میں جانور مشترک چرتے ہیں۔
نمبر۲۔ ان زمینوں پر حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، پہلے بھی کئی زمینیں تقسیم کی گئیں ہیں۔
نمبر۳۔ مالی وجانی قربانی سے مراد یہ ہے کہ ان زمینوں تک سڑک وغیرہ کا خرچہ یا بالفرض دوسرے دور علاقہ والے اس پر دعوی کرے تو عدالت میں کیسز پر آنے والا خرچہ وہاں کے رہائش پذیر لوگ ہی کرتے ہیں جو علاقہ چھوڑ چکے ہیں وہ بالکل نہیں کرتے۔ یاد رہے ان زمینوں اور جنگلات کے مالکانہ حقوق ریاست سوات سے ہی اہلِ علاقہ کے پاس ہے ۔

جواب

زمینوں کی تقسیم

سوال میں آپ نے جن زمینوں کا تذکرہ کیا ہے اگر حکومتی قوانین میں ان کی تقسیم کی اجازت ہے تو انہیں تقسیم کرنے میں کوئی حرج نہیں، تاہم جو لوگ وہ علاقہ چھوڑ چکے ہیں وہ بھی ان زمینوں میں حصہ دار ہوں گے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ اس علاقے کے قرب وجوار کی زمینوں اور وہاں کے حکومتی قوانین کو ملاحظہ کرنے کے بعد کیا جاسکتاہے۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس