ایک شخص کی دو بیویاں تھیں اس نے اپنی زندگی میں ایک پلاٹ ان میں سے ایک بیوی کو دے دیا تھا جس نے اس پر بلڈ نگ تعمیر کی ،اب اس بیوی کا انتقال ہواہے اور اس کے ورثاء میں صرف ایک بیٹا اور ایک بیٹی موجود ہیں ، والدین اور شوہر فوت ہو چکے ہیں البتہ ایک سوتیلہ بیٹا اور ایک سو تیلی بیٹی بھی ہے تو کیا یہ سو تیلی اولاد میراث کی حقدار ہوگی؟اور بلڈنگ کا کیا حکم ہے۔
اگر شوہر نے واقعۃً زمین اپنی ایک بیوی کوہبہ کر کے اس کا قبضہ دےدیا تھا اس صورت میں مذکورہ بلڈنگ ان کی ملکیت تھی؛ لہٰذا ان کے انتقال کے بعدبیوی کے ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گی کہ حقوق مقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کے بعد کل مال کے تین برابر حصے کر کے دو حصے بیٹے کو اور ایک حصہ بیٹی کو دیا جائے۔واضح رہے کہ مرحومہ کا سوتیلہ بیٹا اور بیٹی مرحومہ کے تر کے میں حصہ دار نہیں ہونگے۔